تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 301
301 صاحبہ سے بہتر کسی کو نہ پایا۔آپ نے دنیوی تعلیم نہیں پائی ( بجر معمولی اردو خواندگی کے ) مگر جو آپ کے اصول اخلاق و تربیت ہیں ان کو دیکھ کر میں نے یہی سمجھا ہے کہ خاص خدا کے فضل اور خدا کے مسیح کی تربیت کے سوا اور کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ یہ سب کہاں سے سیکھا؟ (۱) بچے پر ہمیشہ اعتبار اور بہت پختہ اعتبار کر کے اس کو والدین کے اعتبار کی شرم اور لاج ڈال دینا یہ آپ کا بڑا اصول تربیت ہے۔(۲) جھوٹ سے نفرت اور غیرت وغنا آپ کا اول سبق ہوتا تھا۔ہم لوگوں سے بھی آپ ہمیشہ یہی فرماتی رہیں کہ بچہ میں یہ عادت ڈالو کہ وہ کہنا مان لے پھر بے شک بچپن کی شرارت بھی کرے تو کوئی ڈر نہیں جس وقت بھی روکا جائے گا باز آجائے گا اور اصلاح ہو جائے گی۔فرماتیں کہ اگر ایک بار تم نے کہنا ماننے کی پختہ عادت ڈال دی تو پھر ہمیشہ اصلاح کی امید ہے۔یہی آپ نے ہم لوگوں کو سکھا رکھا تھا اور کبھی ہمارے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتا تھا کہ ہم والدین کی عدم موجودگی کی حالت میں بھی ان کے منشاء کے خلاف کر سکتے ہیں۔حضرت ام المومنین ہمیشہ فرماتی تھیں ” میرے بچے جھوٹ نہیں بولتے“ اور یہی اعتبار تھا جو ہم کو جھوٹ سے بچاتا بلکہ زیادہ متنفر کرتا تھا۔مجھے آپ کا سختی کرنا کبھی یاد نہیں پھر بھی آپ کا ایک خاص رعب تھا اور ہم بہ نسبت آپ کے حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے دنیا کے عام قاعدہ کے خلاف بہت زیادہ بے تکلف تھے۔اور مجھے یاد ہے کہ حضور اقدس سے حضرت والدہ صاحبہ کی بے حد محبت وقد ر کرنے کی وجہ سے آپ کی قدر میرے دل میں اور بھی بڑھا کرتی تھی۔بچوں کی تربیت کے متعلق ایک اصول آپ یہ بھی بیان فرمایا کرتی تھیں کہ:۔پہلے بچے کی تربیت پر اپنا پورا زور لگاؤ دوسرے ان کا نمونہ دیکھ کر خود ہی ٹھیک ہو جائیں گے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سب اولا ددین کے لئے وقف تھی۔عموماً ایسا ہوتا ہے کہ باپ اگر اپنی اولاد کو دین کے لئے وقف کرتے ہیں تو مائیں روک بن جاتی ہیں۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود (خلیفہ اسیح الثانی) جب سیاحت مصر اور حج بیت اللہ سیرت حضرت ام المومنین مصنفہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی حصہ اولس ۳۹۳ تا۳۹۵