تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 300
300 آسمان پر تمہارے لئے دعاؤں کا بڑا بھاری خزانہ چھوڑا ہے جو تمہیں وقت پر ملتا رہے گا۔روایات حضرت نواب مبار کہ بیگم صاحبہ ) حضرت ام المومنین کے بلند مقام اور آپ کی عظمت کے متعلق خود آپ کے لخت جگر حضرت مصلح موعودؓ کے الفاظ پڑھئے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ایک خطبہ جمعہ میں اپنے خاندان کے افراد کو زندگیاں وقف کرنے کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام جب فوت ہوئے اس وقت ہمارے پاس اپنے گزارے کا کوئی سامان نہ تھا۔والدہ سے اس کے ہر بچہ کو محبت ہوتی ہے لیکن میرے دل میں نہ صرف اپنی والدہ ہونے کے لحاظ سے حضرت ام المومنین کی عظمت تھی بلکہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی اہلیہ ہونے کی وجہ سے آپ کی دہری عزت میرے قلب میں موجود ہے۔اس کے علاوہ جس چیز نے میرے دل پر خاص طور پر اثر کیا وہ یہ ہے کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام جب فوت ہوئے ہیں اس وقت آپ پر کچھ قرض تھا۔آپ نے یہ نہیں کیا کہ جماعت کے لوگوں سے کہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام پر اس قدر قرض ہے یہ ادا کر دو بلکہ آپ کے پاس جو زیور تھا اسے آپ نے بیچ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے قرض کو ادا کر دیا۔میں اس وقت بچہ تھا اور میرے لئے ان کی خدمت کرنے کا کوئی موقع نہ تھا مگر میرے دل پر ہمیشہ یہ اثر رہتا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو کتنا محبت کرنے والا اور آپ سے تعاون کرنے والا ساتھی دیا۔حضرت اُم المومنین اور تربیت اولاد :- حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو جو اولاد حضرت ام المومنین کے بطن سے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائی سب ہی کے متعلق الہی بشارات تھیں لیکن ان کی تربیت میں بھی حضرت ام المومنین نے ایک اہم کردار ادا کیا۔اس سلسلہ میں حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کی ایک تحریر جو حضرت اُم المومنین کی تربیت کے زریں اصولوں پر روشنی ڈالتی ہے درج ذیل کی جاتی ہے۔آپ تحریر فرماتی ہیں:۔اصولی تربیت میں میں نے اس عمر تک بہت مطالعہ عام و خاص لوگوں کا کر کے حضرت والدہ حضرت قمر الانبیاء صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی چار تقریریں سیرت طیبہ ص ۱۰۷ الفضل ۱۰ مارچ ۱۹۴۴ء وسیرت ام المومنین حصہ دوم ص ۲۹۶، ۲۹۷