تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 294
294 کہ اے خدا! تو ہی اس کے لئے سب کام بنائیو۔معلوم نہیں اس وقت کیسا قبولیت کا وقت تھا کہ اللہ تعالیٰ اس بیٹی کے صدقہ میں مجھے یہاں لے آیا۔۷ ارنومبر ۱۸۸۴ء کو خواجہ میر در درحمہ اللہ علیہ کی مسجد واقع دہلی میں نماز عصر و مغرب کے درمیان گیارہ سو روپیہ حق مہر پر اس مبارک نکاح کا اعلان شمس العلماء مولوی سید نذیر حسین صاحب محدّث دہلوی نے کیا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے دو خدام پر مشتمل مختصر برات لے کر دہلی تشریف لے گئے تھے۔نکاح کے بعد رخصتانہ کی نہایت سادہ تقریب ہوئی۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام اپنے ساتھ کوئی زیور اور کپڑا نہ لے گئے تھے صرف ڈھائی سو روپیہ نقد تھا اس پر رشتہ داروں نے بہت طعن کئے کہ اچھا نکاح کیا ہے کہ نہ کوئی زیور ہے نہ کپڑا۔اگلے روز حضرت مسیح موعود علیہ السلام حضرت ام المومنین کو ساتھ لے کر دہلی سے قادیان روانہ ہو گئے۔حضرت ام المومنین دتی سے رخصت ہو کر قادیان آئیں۔سسرال میں عموما نئی دلہنوں کی بہت آؤ بھگت ہوتی ہے لیکن حضرت ام المومنین ایسے گھر میں آئیں جہاں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے سب رشتہ دار آپ کے مخالف تھے اس لئے حضرت ام المومنین کو ابتداء میں تنہائی کی تکلیف اٹھانی پڑی۔آپ کے ساتھ دلی سے ایک خادمہ فاطمہ بیگم آئی تھیں وہ پنجابی بالکل نہیں سمجھتی تھیں اور نہ ان کی زبان کوئی سمجھتا تھا۔حضرت ام المومنین کی شادی کے ابتدائی دنوں کے حالات حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلہ العالی کے الفاظ میں پڑھئے۔آپ تحریر فرماتی ہیں:۔اماں جان نے ایک دفعہ ذکر فرمایا جب تمہارے ابا مجھے بیاہ کر لائے تو یہاں سب کنبہ سخت مخالف تھا (اس وقت تک شادی کی ہی وجہ سے غالباً) دو چار خادم مرد تھے اور پیچھے سے ان بے چاروں کی بھی گھر والوں نے روٹی بند کر رکھی تھی گھر میں عورت کوئی نہ تھی صرف میرے ساتھ فاطمہ بیگم تھیں وہ کسی کی زبان نہ بجھتی تھیں نہ ان کی کوئی سمجھے۔شام کا وقت بلکہ رات تھی جب ہم پہنچے تنہائی کا عالم، بیگانہ وطن میرے دل کی عجیب کیفیت تھی اور روتے روتے میرا برا حال ہوگیا تھا۔نہ کوئی تسلی دینے والا ، نہ منہ دھلانے والا، نہ کھانے پلانے والا، کنبہ نہ ناطہ، اکیلی حیرانی پریشانی میں آن کر اُتری۔ا سیرت ام المومنین حصہ اول مصنفہ شیخ محمود احمد صاحب عرفانی ص ۲۳۲