تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 22
22 22 (۱۲) محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ رنمل ضلع گجرات سے اپنے شوہر مکرم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب واقف زندگی کے نام رقمطراز ہیں:۔خوش رہیں۔کامیابی و کامرانی کی مرادیں دیکھیں۔قادیان کے جھنڈے کو بلند کرنے والوں میں سے ہوں اور دعا بھی کریں کہ خدا کے نام کو پھیلانے والوں میں ہمارا بھی نام ہو۔آپ کی خیریت کی مجھے کوئی اطلاع نہیں ملی ملتی بھی کیسے ؟ میں ایسی جگہ ہوں جہاں قادیان کی مقدس بستی کے حالات و واقعات جو بعد میں رونما ہوئے نہیں پہنچتے۔میں یہاں (نمل ضلع گجرات) کیوں آئی؟ کس طرح آئی ؟ بس سمجھ لیجئے خدا کی کسی حکمت کے ماتحت میرا یہاں آنا ہوا۔میرے جیسی گنہ گار پر خدا کے اتنے بڑے احسانات!! اف اگر میرے جسم کا ذرہ ذرہ بھی اس کے شکریہ میں دن رات سر بسجو در ہے تو اس کا عشر عشیر بھی ادا نہیں ہوسکتا آپ خود اندازہ لگا سکتے ہیں کہ میں جب سے یہاں آئی ہوں کس طرح دن گزرتے ہیں اور کس طرح ستارے گنتے گنتے راتیں کٹتی ہوں گی لیکن زبان سے اگر کوئی لفظ نکلتا ہے تو یہی کے اسے قادیان کی بستی تجھ پر لاکھوں سلام اور اے قادیان میں رہنے والے جانباز و اتم پر لاکھوں درود سمع حضرت اصلح الموعود " کا ایک ولولہ انگیز مضمون : ماہ اکتو بر ۱۹۴۷ کے ابتدائی ایام میں جبکہ قادیان پر ہندؤں اور سکھوں کے آخری حملہ کا آغاز ہو چکا تھا مگر ابھی پاکستان میں اس کی خبر نہیں پہنچی تھی حضرت الصلح الموعود رضی اللہ عنہ نے ایک ولولہ انگیز مضمون زیر عنوان ”جماعت احمدیہ کے امتحان کا وقت“ تحریر فرمایا۔اس مضمون میں حضور نے لکھا کہ:۔میں احمدیوں سے کہتا ہوں کہ جب وہ بیعت میں داخل ہوئے تھے تو انہوں نے اقرار کیا تھا کہ وہ دین کو دنیا پر مقدم کریں گے اور اس دنیا کے لفظوں میں ان کی جانیں بھی شامل تھیں۔ان کے بچوں کی جانیں بھی شامل تھیں۔ان کی بیویوں اور گھر کی دوسری مستورات کا مستقبل بھی شامل تھا۔پس آج جبکہ باوجود ہمارے اس اعلان کے کہ ہم جس حکومت کے ماتحت رہیں گے اس کے وفادار رہیں لے ابن حضرت مولوی عبید اللہ صاحب مبلغ شہید ماریشس :- ه تاریخ احمدیت جلدا اصفحه ۱۴۵-۱۴۶