تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 290 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 290

290 سیکرٹری نمائش محترمہ بیگم صاحبہ چوہدری مشتاق احمد صاحب با جوه سیکرٹری بیرون محتر مہ امۃ الرحیم صاحبہ اہلیہ صوفی مطیع الرحمان صاحب مرحوم سیکرٹری ناصرات محترمہ صاحبزادی امتہ المجید بیگم صاحبہ بنت حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب حضرت ام المومنین سیدہ نصرت جہاں بیگم صاحبہ اللہ تعالیٰ نے آنحضرت ﷺ کو چودہ سو سال قبل مسیح موعود کی بشارت دی تھی اور ساتھ ہی یہ بھی بتا دیا تھا کہ يَتَزَوَّجُ وَيُولدلَۀ کہ وہ آنے والا سی شادی بھی کرے گا اور اس کی اولا د بھی ہوگی۔شادی لوگ کرتے ہی ہیں اور اولاد بھی ہوتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ کا کسی انسان کے متعلق شادی کی خبر چودہ سوسال قبل دینا اور اس کی اولاد کی بشارت دینا اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ یہ شادی عام شادی نہ تھی بلکہ ایک نئے زمین و آسمان کی بنیاد اس شادی کے ساتھ رکھی جانے والی تھی۔خود حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اس کے متعلق تحریر فرماتے ہیں:۔”جناب رسول اللہ ﷺ نے بھی پہلے سے ایک پیشگوئی فرمائی ہے کہ آیت يَتَزَوَّجُ وَيُولدله یعنی وہ مسیح موعود بیوی کرے گا اور نیز وہ صاحب اولاد ہوگا۔اب ظاہر ہے کہ تزوج اور اولاد کا ذکر کرنا عام طور پر مقصود نہیں کیونکہ عام طور پر ہر ایک شادی کرتا ہے اور اولاد بھی ہوتی ہے۔اس میں کچھ خوبی نہیں بلکہ تزوج سے مراد وہ خاص تزوج ہے جو بطور نشان ہوگا اور اولاد سے مراد وہ خاص اولاد ہے جس کی نسبت اس عاجز کی پیشگوئی موجود ہے۔گویا اس جگہ رسول اللہ ﷺ ان سیہ دل منکروں کو ان کے شبہات کا جواب دے رہے ہیں اور فرمارہے ہیں کہ یہ باتیں ضرور پوری ہوں گی۔حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم رضی اللہ عنہا کا وجود آیت اللہ میں سے تھا۔اس پاک وجود کو اللہ تعالیٰ نے اپنے پیارے بندے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے لئے منتخب فرمایا۔آپ کے دعوئی سے بھی قبل اللہ تعالیٰ نے آپ کو حضرت سیدہ نصرت جہاں بیگم سے شادی کی بشارت دی اور فرمایا:۔اشْكُرُ نِعْمَتِي رَأَيْتَ خَدِ يُجَتِي ! ضمیمہ رسالہ انجام آتھم ص ۳۳۷ ۲ براہین احمدیہ حصہ چہارم حاشیه در حاشیہ نمبر ص ۵۵۸