تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 277
277 حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب مبلغ ما ریشش کے اعزاز میں لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی طرف سے ایک ریب منعقد ہوئی۔اس موقع پر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے آنے والی بہنوں کو اهلاً وسهلاً وَمَرْحَبًا کہا اور فرمایا آپ باہر سے ہو کر آئی ہیں آپ کو مفید تجربات حاصل ہو چکے ہیں۔ہمیں امید ہے کہ آپ لجنہ مرکزیہ کے لئے مفید ثابت ہوں گی اور آپ لجنہ اماءاللہ کے کاموں میں پوری دلچسپی لیں گی۔اس کے بعد آپ نے جانے والی بہن محترمہ نصیرہ نزہت صاحبہ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ آپ ایک بہت بڑے مقصد یعنی تبلیغ اسلام میں اپنے خاوند کی مدد کرنے کے لئے باہر جارہی ہیں ہماری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ آپ کو اس مقصد میں کامیاب کرے لے حضرت خلیفہ اسیح الثانی نے یکم جون بعد نماز عصر مبلغ ماریشش محترم حافظ بشیر الدین عبید اللہ صاحب کی اہلیہ محترمہ کے جانے کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا :۔در مبلغ کی بعض دفعہ بہت سی طاقت اس لئے بھی ضائع چلی جاتی ہے کہ عورتوں کی تبلیغ اور ان کی تعلیم کے سلسلہ میں اس کا کوئی ہاتھ بٹانے والا نہیں ہوتا مگر خوش قسمتی سے ان کی بیوی جو ان کے ساتھ جارہی ہیں وہ ایک مخلص اور علم والی عورت ہیں۔پس اب کم سے کم ایک ایسا ہتھیار ان کے پاس موجود ہے جو ہمارے مبلغوں کے پاس نہیں تھا۔ہے محترمہ نصیرہ نزہت صاحبه ۴ جون ۱۹۵۱ء کو ماریشس روانہ ہوئیں۔لجنہ مرکزیہ کی دعوت کے علاوہ اپریل کو نصرت گرلز ہائی سکول کی طرف سے بھی ان کے اعزاز میں الوداعی پارٹی دی گئی۔مورخه ۲۵ جولائی بروز اتوار نصرت گرلز ہائی سکول میں محترمہ مبارکہ نسرین صاحبہ اہلیہ مولوی محمد اسماعیل صاحب ہنیر کے اعزاز میں جو اپنے خاوند کے ساتھ سیلون جارہی تھیں ایک جلسہ منعقد ہوا۔۵ اگست ۱۹۵۱ء کو محتر مہ امتہ القیوم صاحبہ اہلیہ مولوی غلام احمد صاحب بشیر اور محترمہ امتہ الحکیم صاحب الیه یخ نوراحمد صاحب منیر اور محترمہ خورشید بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی حمد الحق صاحب ساقی کے اعزاز میں دعوت دی گئی۔یہ بہنیں علی الترتیب حلب، لبنان اور ٹرینیڈاڈ گئی تھیں۔۳۰ / نومبر کو دفتر لجنہ مرکزیہ میں محترمہ سکینہ بیگم صاحبہ اہلیہ مولوی عبد الکریم صاحب شرما ( جو مشرقی افریقہ جارہی تھیں) کو دعا کے ساتھ رخصت کیا گیا۔محترمہ امتۃ الرشید شوکت صاحبہ نے اس موقع پر ایڈریس پیش کیا۔لے رجسٹر کا رروائی لجنہ اماءاللہ مرکزیہ الفضل ۹ ارجون ۱۹۵۱ء ص ۶ کالم نمبر ۱-۲