تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 263 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 263

263 استقبالیہ :۔حضرت خلیفہ مسیح الثالث ایدہ اللہ تعلی بنصر العزیز کی مغربی ممالک سے کامیاب مراجعت پر ایک تقریب منعقد کی جس میں حضور اقدس نے از راہ نوازش پہلی مرتبہ جامعہ نصرت میں قدم رنجہ فرمایا۔سیکرٹری لجنہ جامعہ نصرت اور صدر کالج یونین نے حضور کی خدمت میں سپاسنامے پیش کئے۔حضور نے ممبرات لجنہ کو اپنے قیمتی خطاب سے نوازا۔آپ نے نہایت دلکش انداز میں اپنے سفر کے حالات سنائے۔طالبات کو صحیح اسلامی تعلیم پر عمل کرنے اور سٹاف جامعہ نصرت کو اپنے اہم فریضہ کو سرانجام دینے کی طرف خصوصی توجہ دلائی۔حضور نے فرمایا کہ آپ اندازہ نہیں لگا سکتیں کہ کس طرح اسلام آج کے زمانہ میں گنبد تثلیث پر کاری ضربیں لگا رہا ہے۔پس اس دور میں ہر شخص کو اپنے فرائض کو احسن طور پر سرانجام دینا چاہیئے۔صحت جسمانی:۔قومی اور ملی فرائض کی بجا آوری بلکہ پوری زندگی کو صحیح طریق پر گزارنے کے لئے صحت جسمانی کا خیال رکھنا از حد ضروری ہے۔جامعہ نصرت کی طالبات کی تربیت کے دوران اس سنہری اصول کو نہ صرف مدنظر رکھا جاتا ہے بلکہ اسے ہمیشہ ہی خاص الخاص اہمیت دی جاتی ہے۔محترمہ لیڈی ڈاکٹر غلام فاطمہ صاحبہ مرحومہ آنریری طور پر طالبات جامعہ نصرت کا طبی معائنہ کرتی رہیں۔آپ کے معائنہ کے مطابق کمزور طالبات کی طبی رپورٹ والدین کو بھجوائی جاتی رہی اور کالج میں بھی کمزور اور کھلاڑی طالبات کو دودھ اور وٹامن دیئے جاتے ہیں۔ہر سال ماہ اکتوبر میں یہ طبی معائنہ ہر طالبہ کا کروایا جاتا ہے۔اس کے علاوہ ماہ اپریل میں ٹائیفائیڈ اور ہیضہ کے ٹیکے ہر طالبہ وسٹاف اور کارکن کو مفت لگوائے جاتے ہیں۔دوسری ادویات کو نین ہمیشیم وغیرہ بھی گاہے بگا ہے طالبات کو تقسیم کی جاتی ہیں۔کالج میں ڈسپنسری کا قیام :۔ابتداء میں بغیر نرس کے بہت ہی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا خصوصاً ہوسٹل میں فوری طبی امداد بہم