تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 261
261 کے معیار پر نہیں ہوگا۔یعنی جو سوالات تم کمزور کرو گے وہ تمہاری ڈویژن کو کمز ور نہیں کریں گے بلکہ جو سوال تم اچھے کرو گے وہ تمہاری ڈویژن کو اونچا کر دیں گے پس یہ بڑی نعمت ہے ، بڑی عطا ہے خدا تعالی کی۔غرض یہ دس پرچے ہیں جن کا میں نے ذکر کیا ہے یہ سلیبس ہے اور اس کے لئے کتاب کونسی پڑھنی ہے؟ قرآن کریم۔یعنی ان دس پر چوں کا نصاب ہمیں قرآن کریم میں ملتا ہے اس لئے شروع میں ہی اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے متعلق ہمیں بتایا ہے کہ ذالك الكتاب لا ريب فيه هدى للمتقين یہ ایک کامل نصاب ہے جو تمہارے ہاتھ میں دیا گیا ہے۔ایک اکمل ہدایت نامہ ہے جو قیامت تک تمہارے کام آنے والا ہے۔اس میں تمام وہ باتیں نصاب کے متعلق پائی جاتی ہیں جن کا ذکر ان دس پر چوں میں کیا گیا ہے اور متقی کے یہ معنے ہیں جو گناہ اور معصیت سے اس لئے بچتا ہے کہ کہیں اللہ تعالیٰ ناراض نہ ہو جائے اس لئے اگر تم یہ چاہتی ہو کہ جب اس کانووکیشن (CONVOCATION) کا وقت آئے اور خدا کے فرشتے یہ اعلان کریں کہ هذا يومكم یہ تمہارا دن ہے۔تو اے عزیز بچیو! خدا کرے کہ اس وقت تمہیں اپنے اقوال یا افعال کی وجہ سے اپنے رب کے سامنے شرمندہ نہ ہونا پڑے۔اللہ تعالیٰ کہتا ہے کہ اس کا نووکیشن (CONVOCATION) کے دن، اس موعود دن جو شخص کامیاب ہونا چاہے اس کو ہم بتاتے ہیں کہ قرآن تمہارا نصاب ہے اور یہ دس پرچے ہیں جو تم نے پاس کرنے ہیں اس کے مطابق تمہارا نتیجہ نکلے گا، اس کے مطابق تمہیں جزاء ملے گی۔اس جزاء کا ایک حصہ یہ بھی ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ساتھ ایک پختہ اور زندہ تعلق قائم ہو جائے گا جو تمام مسرتوں، خوشیوں اور خوشحالیوں کا سرچشمہ ہے، اور ایسی جنت تمہیں دی جائے گی جس سے پھر تم نکلو گے نہیں۔اور اس رنگ میں تمہیں دی جائے گی کہ جو خواہش بھی تمہارے دلوں میں پیدا ہوگی وہ فورا پوری کر دی جائے گی۔یعنی اس جزاء کا یہ بھی ایک حصہ ہے کہ یہاں تو یہ ہوتا ہے کہ کسی نے سند لے لی پھر کانووکیشن (CONVOCATION) منعقد ہوا۔ایک دن خوشی کا بھی منایا۔لیکن وہ چاہتا ہے کہ کہ فلاں نیا کارخانہ جو ہے اس میں فلاں نوکری مجھے مل جائے لیکن وہ نوکری نہیں ملتی۔گویا کچھ اسے مل جاتا ہے اور کچھ نہیں ملتا۔لیکن وہاں کچھ ملے اور کچھ نہ ملے کا سوال پیدا نہیں ہوتا بلکہ لَهُمُ مَا يَشَاءُ وُنَ۔یعنی