تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 257 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 257

257 علم سست ہو جائیں گے۔اسی طرح جس کو یہ یقین کامل نہ ہو ( یقین ناقص ہو یا بالکل یقین نہ ہو ) کہ آخرت حق ہے اور ہمیں ایک دن اپنے رب کے حضور جوابدہ ہونا ہے۔ایک یوم موعود ہے جس کی حاضری لازمی ہے اور اس دن دو قسم کی کتابیں دی جائیں گی ایک داہنے ہاتھ میں ایک بائیں ہاتھ میں اور پھر جس کو یہ یقین نہ ہو کہ اس دن ملائکہ بشارت دیں گے یا اللہ تعالیٰ کے قہر کے جہنم میں لے جائیں گے تو وہ تیاری نہیں کرے گا۔پس اس پر چہ یعنی کامل اطاعت کے لئے ضروری ہے کہ آخرت پر ایمان کامل ہو اور اس دن کا خوف اس کے دل میں رہے۔لیکن محض خوف بعض دفعہ ناامیدی پیدا کر کے انسان کو مایوسی کا منہ دکھاتا اور اس کو بالکل نکما کر دیتا ہے اور وہ کوشش نہیں کرتا اس لئے اس کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت کی بڑی امید دلائی ہے۔اگر چہ دو چیزیں سامنے ہوں خوف اور رب کریم کی رحمت کی امید تو کامل اطاعت کی طرف انسان متوجہ ہو جاتا ہے اور اس کے لئے بڑی دعائیں کرنی پڑتی ہیں۔چوتھا پر چہ تین حصوں پر مشتمل ہے۔۔زبان حق گو ۲۔دل حق پرست اور ۳۔جوارح عمل سے حق پر صداقت کی مہر لگانے والے۔حق سے دور ہونا اللہ (جو رب العلمین ہے ) سے دور ہونے کے مترادف ہے اور یہ جو ہر تکونا ہے اس ہیرے کے تین اینگل (ANGLE) ہیں تین زاویے ہیں۔ایک کا زبان سے تعلق ہے دوسرے کا دل سے اور تیسرے کا جوارح یعنی اعضاء ( عمل کرنے کی جو طاقتیں اور قو تیں دی گئی ہیں) سے۔پانچواں پرچہ ہے صبر سے کام لینا۔یعنی جن چیزوں سے روکا جائے ان چیزوں سے رک جانا اور اللہ کی رضا کے حصول کے لئے نفسانی خواہشات کو دبائے رکھنا۔نیز رازوں کو افشاء نہ کرنا۔راز افشاء کرنے سے اس دنیا کے معاشرہ میں بڑی خرابی پیدا ہوتی ہے۔مثلاً آپ کو آپ کی کوئی سہیلی اپنے اعتماد میں لے کر اپنی راز کی کوئی بات بتاتی ہے اور آپ اسے عام کر دیتی ہیں۔مثلاً وہ آپ کو یہی بات بتادیتی ہے کہ میری والدہ یا میرے والد کا خط آیا ہے کہ تم بی۔اے پاس کر کے جب گھر آؤ گی تو ہم تمہاری شادی کا انتظام کر دیں گے اور یہ کوئی بری بات نہیں لیکن عورت میں اللہ تعالیٰ نے حیا کا مادہ رکھا ہے اگر وہ کسی سہیلی کو یہ راز بتادیتی ہے اور وہ اسے عام کر دیتی ہے تو تمام لڑکیاں اسے چھیڑنا شروع کر دیتی ہیں۔اگر آپ ایسا کریں گی تو نمبر کٹ گئے آپ کے۔