تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 252 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 252

252 ایمان لے آئے اور پھر اللہ تعالیٰ کی مدد سے اسلام کو پھیلاتے رہے۔صحابہ کے وقت نہ تو متمدن حکومتیں تھیں نہ ان کے وقت میں وہ دفاتر تھے جن کی متمدن حکومتوں کو ضرورت ہوتی ہے، نہ ان کے زمانہ میں کوئی تمدنی ترقی ہوئی یعنی نہ ان کے زمانہ میں سڑکیں بنائی گئیں، نہ نہریں کھودی گئیں، نہ پل بنائے گئے۔اس کے لئے انہیں فرصت ہی نہیں تھی۔بنو امیہ کے زمانہ میں مسلمانوں کو اس قسم کے کاموں کے لئے فرصت ملی اور انہوں نے بہت سا کام بھی کیا لیکن افسوس کہ اس زمانہ کے تمدنی حالات محفوظ نہیں جس کے وجہ سے ہم اپنے شاندار ماضی سے کٹ گئے ہیں لیکن پھر بھی جو کچھ ہمارے پاس موجود ہے ہمارا فرض ہے کہ ہم اسے قائم رکھیں اور اس کے ساتھ رشتہ اور تعلق قائم کریں تا کہ ہماری مثال ایک پل کی سی ہو جائے نہ کہ ان کشتیوں کی سی جو کسی رسہ سے بندھی ہوئی نہ ہوں اور پانی کی رو کے ساتھ ساتھ بہتی چلی جارہی ہوں کیونکہ ان کا کوئی مصرف نہیں ہوتا۔“ حضرت خلیفتہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس تقریب پر لڑکیوں کی ماؤں کو بلانے کی تاکید کرتے ہوئے فرمایا:۔وو پس ایک تو تقریب کو اس بات کا ذریعہ بناؤ کہ لڑکیوں کی ماؤں اور ان کی دوسری بزرگ عورتوں کو ان تقریبات میں بلاؤ تا کہ وہ اپنی لڑکیوں کی سکول لائف سے واقف ہوں اور تا وہ تمہارے ادارہ سے تعاون کرتے ہوئے اپنی لڑکیوں کی مناسب اصلاح کر سکیں۔مجھ پر یہ اثر ہے کہ اس وقت غالباً کالج کی لڑکیوں کے علاوہ سکول کی لڑکیوں کو بلالیا گیا ہے یا ان کے علاوہ بعض ان لحاظ والی عورتوں کو بلالیا گیا ہے جن کا بلانا مناسب سمجھا گیا ہے۔حالانکہ چاہیئے تھا کہ لڑکیوں کی ماؤں یا بڑی عورتوں کو اس موقع پر خصوصیت سے دعوت دی جاتی کہ وہ یہاں آئیں اور اس تقریب میں شامل ہو کر پنی لڑکیوں کی تعلیم وتربیت، ان کے کام اور طورطریق کو خود دیکھیں اور علوم کریں کہ کی ان کی لڑکیاں تعلیمی لحاظ سے ترقی کر رہی ہیں۔دوسرا فائدہ اس کا یہ بھی ہوتا ہے کہ اس طرح لڑکیوں کے رشتہ داروں کو سکول یا کالج سے محبت ہو جاتی ہے۔تیسرے جب انہیں اپنی لڑکیوں کی تعلیمی زندگی سے واقفیت ہو جاتی ہے تو ان میں غیریت اور اجنبیت کا احساس باقی نہیں رہتا اور باوجود اس کے کہ ان کی لڑکیاں سکول کی دیواروں کے پیچھے ہوتی ہیں وہ انہیں ان دیواروں کے پیچھے سے بھی نظر آتی رہتی ہیں۔“