تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 251 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 251

251 آپ کو کسی ماضی کے ساتھ وابستہ رکھنے کی ضرورت نہیں سمجھتے۔چنانچہ دیکھ لو جانوروں کا کوئی ماضی نہیں ہوتا انہیں پتہ نہیں ہوتا کہ ان کا باپ کون تھا ان کا دادا کون تھا ، ان کا پڑ دادا کون تھا لیکن انسان اپنے باپ دادوں کا نام یاد رکھتا ہے۔مگر مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ آیا جب وہ اپنے ماضی کو بھول چکے تھے اور وہ ان جانوروں کی طرح ہو گئے تھے جو اپنے آپ کو کسی ماضی کے ساتھ وابستہ رکھنے کی ضرورت محسوس نہیں کرتے اور یا پھر وہ غیر لوگوں کے نقال ہو گئے اور انہوں نے اسے بھی نظر انداز کر دیا اور سمجھ لیا کہ ہمیں اپنی سابقہ روایات پر عمل کرنے کی ضرورت نہیں۔نتیجہ یہ ہوا کہ ان میں انتشار پیدا ہو گیا۔جیسے دریا میں بہت سی کشتیوں کو آپس میں رسوں کے ساتھ باندھ دیا جاتا ہے تو ان پر بچے بھی چلتے ہیں، جوان بھی چلتے ہیں، مرد بھی چلتے ہیں اور عورتیں بھی چلتی ہیں۔گائے ، بیل، اونٹ، گھوڑے اور بکریاں بھی چلتی ہیں۔لیکن جب کسی جگہ کشتیوں کے رسے ٹوٹ جاتے ہیں ، ان کے بندھن کھل جاتے ہیں تو پھر کوئی کشتی کسی طرف چلی جاتی ہے اور کوئی کسی طرف۔ایسی کشتیوں سے کوئی ملک یا کوئی قوم فائدہ نہیں اٹھا سکتی کیونکہ بندھن ٹوٹ جانے کے بعد کشتیوں میں فاصلہ ہو جاتا ہے اور ہر ایک کی جہت بدل جاتی ہے۔یہی حال قوموں کا ہے جو قو میں اپنی روایات کو قائم رکھتی ہیں اور اپنے ماضی کو بھلا نہیں دیتیں ان کی مثال ان کشتیوں کی سی ہوتی ہے جنہیں درمیان سے باندھ دیا جاتا ہے اور وہ دریا پر ایک پل بنادیتی ہیں۔اسی طرح لوگ ان سے بہت کچھ فائدہ اٹھا لیتے ہیں۔اور جو قو میں اپنے ماضی کو بھول جاتی ہیں اور اپنی سابقہ روایات کو ترک کر دیتی ہیں ان کی مثال ان کشتیوں کی سی ہوتی ہے جن کے درمیان کوئی بندھن نہیں ہوتا اور نہ ان پر ملاح سوار ہوتے ہیں بلکہ وہ پانی کی رو کے ساتھ بہتی چلی جاتی ہیں ایسی کشتیوں سے کوئی انسان، کوئی قوم اور کوئی ملک فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔پس سابقہ روایات یا باپ دادوں کی حکایات اور ان کا طور و طریق راہنمائی کے لئے نہایت ضروری ہیں لیکن بد قسمتی سے مسلمانوں نے اسے نظر انداز کر دیا جس کی وجہ سے اگر آج ہم اپنے باپ دادوں کا طور وطریق اور ان کی عادات و روایات معلوم کرنا چاہیں تو ہمارے لئے مشکل پیش آجاتی ہے۔حقیقت یہ ہے کہ صحابہ سے نیچے اتر کر ہم اپنے باپ دادا کے حالات کو نہیں جانتے حالانکہ ملک کے مختلف حالات جو کسی متمدن قوم پر گزرتے ہیں وہ مسلمانوں کے درمیانی عرصہ میں گزرے صحابہ پر نہیں گزرے۔صحابہ چند غریب اور سادہ طبع لوگ تھے رسول کریم ﷺ مبعوث ہوئے تو وہ آپ پر