تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 250 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 250

250 ۱۹۵۶ء مس منگت رائے کنیرڈ کالج لاہور ۱۹۵۷ء مسز بشیر پرنسپل ہوم اکنامکس کالج لاہور ۱۹۵۸ء مسز ڈکسن اہلیہ ریجنل آفیسر یو۔ایس۔ٹی۔ایس ۱۹۵۹ء مس قریشی ڈپٹی ڈائریکٹرس تعلیمی بورڈلا ہور ١٩٦٠ء ڈاکٹر علی محمد پرنسپل لا ہور کالج ١٩٦١ء ١٩٦٢ء ١٩٦٣ء حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم صاحبہ مدظلها العالی میں جلسہ تقسیم اسناد و تقسیم انعامات اکٹھا ہو گیا تھا جس کا ذکر اس سے قبل آچکا ہے۔حضرت خلیفہ اسیح الثانی کا ایک اہم خطاب تمبر ۱۹۵۳ء کو حضرت خلیفہ المسیح الثانی نے جلسہ تقسیم انعامات میں ایک اہم خطاب فرمایا جو درج ذیل کیا جاتا ہے۔حضور نے فرمایا ! وو اسلام کی تعلیم پر اگر غور کیا جائے تو ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ اسلام نے اس امر پر خصوصیت سے زور دیا ہے کہ جو اچھی بات ہے وہ لے لو اور جو بُری ہے اسے چھوڑ دو۔یعنی ہر ایسی چیز جو تمہارے سامنے آئے اسے تم محض اس تعصب کی وجہ سے کہ وہ چیز تمہاری نہیں کسی اور کی ہے اسے بالکل نہ چھوڑ دیا کرو بلکہ تم یہ دیکھا کرو کہ اس کا کونسا حصہ اچھا ہے اور کونسا حصہ برا ہے۔پھر اچھے حصے کو لے لیا کرو اور برے حصے کو چھوڑ دیا کرو۔اس قسم کی تقریبات بھی یا تو مسلمانوں نے جاری ہی نہیں کیں اور یا اگر جاری کی ہیں تو محض دوسرے لوگوں کی نقل کرتے ہوئے جاری کی ہیں۔اور اس کی وجہ یہ ہے کہ بدقسمتی سے مسلمانوں پر ایک ایسا زمانہ گزرا ہے (اور وہ زمانہ چھوٹا نہیں بلکہ صدیوں کا ہے ) کہ انہوں نے اپنے ماضی کے واقعات کو یاد نہ رکھا۔انہوں نے یہ یاد نہ رکھا کہ وہ کن باپ دادا کی اولاد ہیں اور پھر ان باپ دادوں کے کیا اطوار تھے۔وہ بالکل وحشیوں اور جانوروں کی طرح ہو گئے جو اپنے