تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 227 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 227

227 فارغ التحصیل ہونے لگی۔۱۹۴۷ء کے انقلاب عظیم کی وجہ سے جماعت کو اپنا مرکز عارضی طور پر چھوڑنا پڑا۔۱۹۴۹ء میں ربوہ آباد ہونا شروع ہوا اور دو سال بعد ہی حضرت مصلح موعود نے بچیوں کی اعلیٰ تعلیم کے لئے جامعہ نصرت کا قیام ایک نئی صورت میں فرمایا۔قادیان میں جامعہ نصرت کی جماعتوں کا امتحان مجلس تعلیم لیا کرتی تھی لیکن یہاں جامعہ نصرت کا با قاعدہ الحاق بورڈ ثانوی تعلیم اور یونیورسٹی سے کروایا گیا۔اس زنانہ کالج کے افتتاح کے وقت حضرت مصلح موعود نے اس بات کا اظہار فرمایا کہ پاکستان بننے کے بعد کالجوں میں اسلامیات اور اسلامی تاریخ کا مضمون پڑھایا جانے لگا ہے۔دین اور دنیا کی تعلیم مشترک ہو سکتی ہے اس لئے آپ نے فیصلہ فرمایا کہ سابقہ د مینیات کلاسز کی بجائے ایک زنانہ کالج جاری کر دیا جائے جس میں مروجہ تعلیم کے ساتھ ساتھ زائد دینی تعلیم دی جائے اور اپنی جماعت کا لٹریچر بھی پڑھایا جائے۔حضرت مصلح موعودؓ نے جامعہ نصرت کے قیام کے فیصلہ کا اعلان۱۹۵۰ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر مستورات سے خطاب فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل الفاظ میں فرمایا:۔میں نے فیصلہ کیا ہے کہ ۱۹۵۱ء میں زنانہ کا لج قائم کریں۔جگہ میں نے مقرر کر دی ہے اور ام متین ان کی نگران ہوں گی۔“ افتتاح:۔۱۴ جون ۱۹۵۱ء بروز جمعرات حضرت خلیفہ مسیح الثانی نے جامعہ نصرت کا افتاح فرمایا اور طالبات کو ایک بصیرت افروز خطاب سے بھی نوازا۔حضور نے فرمایا:۔ایک زمانہ تھا کہ ہمارے لئے تعلیم میں مشکلات تھیں۔ایک عیسائی قوم ہم پر حاکم تھی اور مغربی تعلیم دلوانے میں ہمارے لئے مشکلات تھیں۔پس میں اس بات پر زور دیتا تھا کہ ہماری لڑکیاں دینیات کلاس میں پڑھیں اور اپنا سارازور مذہبی اور دینی تعلیم کے حصول میں صرف کریں۔اور شائد میں تھاور نہ کے افسر کی ان جماعت میں میں اکیلا ہی تھا جو اس بات پر زور دیتا تھا ورنہ جماعت کے افسر کیا اور افراد کیا ان سب کی مختلف وقتوں میں یہی کوشش رہی کہ ہائی سکول کے ساتھ ایک بورڈنگ بنانے کی اجازت دے دی ا رجسٹر لجنہ ربوہ رپورٹ جلسہ سالانہ مستورات ۱۹۵۰ء