تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 214 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 214

214 تقریر میں تبلیغ پر بہت زور دیا اور کہا کہ احمدیت کی ترقی کے لئے ضروری ہے کہ مستورات تبلیغ کریں۔عورتوں تک احمدیت کا پیغام عورتوں ہی کے ذریعہ سے پہنچ سکتا ہے۔محترمہ استانی صوفیہ صاحبہ نے اپنی تقریر میں مستورات کو مسجد ہالینڈ اور امتہ الحئی لائبریری کے چندہ کی طرف توجہ دلائی۔پھر حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی نے لجنہ اماء اللہ کی اہمیت پر تقریر فرمائی اور عورتوں کو ان کے فرائض اور ذمہ داریوں کی طرف توجہ دلائی۔آنحتر مہ نے لجنہ لائل پور کی صدر کا انتخاب بھی کروایا۔محترمہ صادقہ بیگم صاحبہ اہلیہ عبداللطیف صاحب متفقہ طور پر صدر قرار پائیں سے بھارت میں احمدی خواتین کی خدمات دینیہ کا مختصر تذکرہ:۔تقسیم ملک کے چار سال بعد جب مستورات کو قادیان آنے اور رہنے کی اجازت ملی اور قادیان میں کچھ عورتوں نے مستقل رہائش اختیار کر لی تو اس وقت یعنی ۱۹۵۱ء میں محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ اہلیہ ڈاکٹر بشیر احمد صاحب انچارج احمد یہ ہسپتال قادیان نے لجنہ اماءاللہ کے کام کی طرف توجہ دی اور نہ صرف قادیان میں بلکہ ہندوستان کے دوسرے شہروں میں بھی مختلف مقامات پر جہاں بھی احمدی مستورات تھیں لجنہ کے کام کو عملی طور پر باقاعدگی سے شروع کروایا۔چنانچہ ان کی کوشش کے نتیجہ میں ۱۹۵۳ء تک حیدر آباد، سکندر آبا (دکن) ، بنگلور، مدراس، بھاگلپور، بھرت پور اور چنتہ کنٹہ میں لجنات کا کام شروع ہو گیا اور ان کی طرف سے مرکز میں چند سال کے تعطل کے بعد ر پورٹیں بھی آنی شروع ہو گئیں۔محترمہ سیدہ امتہ القدوس صاحبہ بیگم محترم صاحبزادہ مرزا وسیم احمد صاحب ۱۹۵۳ء کے شروع میں قادیان تشریف لے گئیں تو آپ کو جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکز یہ بھارت منتخب کیا گیا۔آپ نے صدر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ بھارت کے ساتھ مل کر جون ۱۹۵۳ء سے ۱۹۵۵ء تک حسب توفیق لجنہ اماءاللہ کا کام کیا چنانچہ ۱۹۵۵ء کے آخر تک سولہ مقامات پر لجنہ اماءاللہ کے کام اجراء ہو گیا۔اوائل ۱۹۵۵ء میں محترمہ مبارکہ بیگم صاحبہ صدر لجنہ اماء اللہ ہند مستقل طور پر پاکستان چلی گئیں اور مئی ۱۹۵۵ء میں محترمہ سیدہ امتہ القدوس صاحبہ کا انتخاب بطور صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ ومقامی عمل میں آیا۔آپ کے علاوہ مندرجہ ذیل عہد یداران کا انتخاب بھی ہوا:۔محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ کی صاحبزادی ہیں۔سے رجسٹر رپورٹ کارگزاری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ