تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 13 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 13

13 مکانوں پر مضبوط پکھیں قائم کر دیں۔افسروں کو نگرانی پر کھڑا کر دیا۔خود بھی مسلح کار پر چکر لگاتا رہا۔ملٹری جو قریباً ساری کی ساری احمدی نو جوانوں پر مشتمل تھی بڑے سے بڑے خطرہ کا مقابلہ کرنے کے لئے ساری رات بالکل تیار رہی۔اس طرح رات امن اور خیریت سے گزرگئی اور صبح کو قافلہ روانہ ہو گیا۔یہ اس قافلہ کا ذکر ہے جس میں قادیان کی تمام عورتیں اور بچے آخری بار روانہ ہو گئے۔اس سے قبل پرائیویٹ لاریوں کا ایک اور کنوائے ملٹری کی حفاظت میں اس وقت پہنچا تھا جبکہ ابھی قادیان میں رہنے والوں کو ان کے گھروں سے نہ نکالا گیا تھا۔اس پر سوار ہونے والوں پر بھی انتہائی تشد دکیا گیا۔ابھی وہ کنوائے رکا ہی ہوا تھا کہ اگلے دن صاحبزادہ مرزا داؤ د احمد صاحب میجر ابن حضرت مرزا شریف احمد صاحب کی سرکردگی میں چند ملٹری ٹڑکوں پر مشتمل ایک اور کنوائے پہنچ گیا۔جب یہ کنوائے تیار ہو کر اس جگہ پہنچا جہاں ہندوستانی ملٹری تلاشی لیتی تھی تو پہلا کنوائے وہیں رکا پڑا تھا اور ملٹری کی مار دھاڑ کا شکار ہورہا تھا اس وقت حضرت صاحبزادہ صاحب نے عورتوں اور بچوں کو سہولت کی خاطر اپنے رتبہ اور درجہ کی کوئی پرواہ نہ کرتے ہوئے ایک ایسا طریق اختیار کیا جو نہایت کامیاب ثابت ہوا اور ان کے زیر حفاظت کنوائے تھوڑی دیر کے بعد ہی روانہ ہو گیا۔اس وقت موقعہ پر تلاشی لینے والا بڑا افسر موجود نہ تھاوہ گورداسپور گیا ہوا تھا اور انچارج صاحبزادہ صاحب کے مقابلہ میں کوئی بہت چھوٹے درجہ کا افسر تھا۔میں نے دیکھا صاحبزادہ صاحب نے بے تکلفانہ گفتگو کرتے ہوئے اپنا بازواس کی کمر میں ڈال دیا۔اسے ساتھ لئے ہوئے ادھر اُدھر ٹہلنے لگے اور وہ آپ کے ساتھ ساتھ چلنے لگا۔آپکی یہ ادا دیکھ اداد کر میرا دل خوشی اور مسرت سے بھر گیا کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی اولاد ہمارے لئے کیا کیا کوشش کر رہی ہے چند ہی منٹ بعد آپ کے کنوائے کو بغیر تلاشی لئے روانگی کی اجازت مل گئی اور اس طرح آپ نے حسن تدبر سے خواتین اور بچوں کو بڑی تکلیف سے بچالیا بحالیکہ آپ سے پہلے آنے والا قافلہ اس دن بھی نہ جا سکا جو اگلے دن روانہ ہوا۔ٹرکوں میں سوار ہونے کے سلسلہ میں عورتوں کو ایک بڑی تکلیف یہ بھی درپیش تھی کہ ہندو ملٹری کا قریباً ہر سپاہی اور افسر چند ایک بیرونی پناہ گزین مردوں اور عورتوں کو اپنے ساتھ لگائے پھرتا اور ہر ایک ٹرک میں جو پہلے ہی عورتوں اور بچوں سے لبالب بھرا ہوتا نہ صرف عورتوں کو بلکہ مردوں کو بھی زبردستی ٹھونسنا چاہتا اور باوجود بار بار صدائے احتجاج بلند کرنے کے ٹھونس کر ہی رہتا۔یہ کون لوگ تھے؟ وہی خانماں برباد جو اپنی رہی سہی پونچی ان بھیڑیوں کی نذر کر دیتے تا کہ جان بچا کر ان کے نرغہ سے نکل سکیں۔