تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 199
199 کی صفت سے برکت حاصل ہوتی ہے جو اس کے ساتھ لگائی جائے۔مثلاً امتہ الھی نام ہو سکتا ہے۔امتہ الباری نام ہوسکتا ہے۔امتہ المصور نام ہو سکتا ہے۔امتہ اللہ نام ہو سکتا ہے۔امۃ الرب نام ہوسکتا ہے امتہ الرحمن نام ہو سکتا ہے۔امتہ الرحیم نام ہوسکتا ہے مگر امتہ العالمگیر یا امتہ الجہانگیر یا امۃ الشاہجہاں نام نہیں ہوسکتا۔کیونکہ یہ انسانوں کے نام ہیں خدا کے نام نہیں۔اور لونڈی مسلمان عورت خدا کی ہوتی ہے انسان کی نہیں۔بہر حال اس دفعہ تین نام ایسے پکڑے گئے جو مشر کا نہ تھے اور جن سے ہماری جماعت کے دوستوں کو بچنا چاہیے کیونکہ ان ناموں سے وہ خدا تعالیٰ کی لونڈیاں نہ رہیں آدمی کی لونڈیاں بن گئیں اور یہ جائز نہیں اگر امتہ اللہ نام رکھا جائے تو یہ جائز ہوگا۔اسی طرح اللہ تعالیٰ کی کسی اور صفت کے ساتھ امہ کا لفظ لگا کر نام رکھا جائے تو یہ جائز ہوگا۔لیکن یہ جائز نہیں ہوگا کہ کسی آدمی کے نام کے ساتھ خواہ وہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہوامہ کا لفظ لگا کر اپنی کسی لڑکی کا نام رکھ دیا جائے۔جیسا کہ میں نے بتایا ہے مجھ سے جب کوئی ہمارے خاندان کا آدمی لڑکی کا نام پوچھتا ہے تو میں اصرار کر کے امتہ کے ساتھ اس کا نام رکھتا ہوں۔بلکہ اب چونکہ ہمارے خاندان میں بہت سے بچے ہو گئے ہیں اور بعض دفعہ پہلے نام ہی دوبارہ رکھنے پڑتے ہیں ایسے موقع پر ماں باپ اصرار کر کے نئے نام کی فرمائش بھی کریں تو میں رڈ کر دیتا ہوں کہ اگر مجھ سے نام رکھوانا ہے تو میں اللہ کا نام ضرور بیچ میں لاؤں گا۔یہ نئے نام کی خواہش بھی ایک بدعت ہے۔عربوں میں تو یہ رواج تھا کہ باپ کا نام بھی عبداللہ ہے بیٹے کا نام بھی عبداللہ ہے اور پوتے کا نام بھی عبداللہ ہے۔اگر اسی طرح ایک خاندان میں ایک ایک نام کے کئی بچے ہوں تو اس میں کوئی حرج کی بات نہیں۔اور اسی طرح ہم خدا تعالیٰ کے نام کے استعمال کو بڑھا سکتے ہیں۔نئی لجنات :۔چونکہ ابھی تک بہت سے مقامات پر لجنہ اماءاللہ کی تنظیم قائم نہیں ہوئی تھی اس لئے ماہ جنوری میں دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے دفتر بیت المال اور وکالت مال تحریک جدید سے مختلف جماعتوں کے پتے حاصل کر کے امرائے جماعت کو خطوط لکھے اور انہیں تحریک کی کہ آپ اپنے ہاں احمدی خواتین کو اکٹھا له الفضل ۱۶ مارچ ۱۹۵۱ ص ۳-۴