تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 198 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 198

198 ”ہماری جماعت میں لڑکیوں کے ناموں کے متعلق ایک غلطی ہورہی ہے جو مشرکانہ ہے اور جس کی اصلاح نہایت ضروری ہے۔میں نہیں سمجھ سکا کہ یہ غلطی کیوں ہو رہی ہے۔اگر دوسروں میں یہ غلطی ہو تو اس قد رافسوس پیدا نہیں ہوتا کیونکہ وہ پہلے ہی اسلام سے دور ہیں لیکن ہم لوگ تو وہ ہیں جو اسلام کو خوب سمجھتے ہیں پھر ہمارے اندر وہ نقص کیوں پیدا ہو۔ہماری ایک بہن کا نام مبارکہ بیگم ہے اور ایک کا نام امتہ الحفیظ۔ایک بہن جو چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئی تھی اس کا نام عصمت تھا۔اسی طرح ایک دوسری بہن کہ وہ بھی چھوٹی عمر میں ہی فوت ہو گئی تھی اس کا نام شوکت تھا۔گویا سوائے ایک بہن کے کسی کے نام میں خدا تعالیٰ کا نام نہیں آتا۔ادھر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے نام سے وابستگی کی وجہ سے ہمارے خاندان کے لڑکوں کے ناموں میں احمد کا نام آتا ہے خدا تعالیٰ کا نہیں آتا۔پس مجھے بُرا لگا کہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے خاندان کے ناموں میں سے جاتا رہے چنانچہ میں نے فیصلہ کیا کہ آئندہ لڑکیوں کے نام میں امتہ کے نام پر رکھا کروں گا تا کہ خدا تعالیٰ کا نام ہمارے گھروں میں قائم رہے۔چنانچہ ہمارے خاندانوں میں سے جو لوگ مجھ سے اپنی لڑکیوں کا نام رکھواتے ہیں میں ہمیشہ امتہ کے ساتھ ان کے نام رکھتا ہوں اور جنہوں نے یہ نام نہیں رکھوانا ہوتا وہ مجھ سے پوچھتے ہی نہیں۔بہر حال جب وہ پوچھتے ہیں میں ہمیشہ اصرار سے امتہ کے لفظ کے ساتھ ان کی لڑکیوں کا نام رکھتا ہوں۔یہ قدرتی بات ہے کہ جس خاندان کا تعلق سلسلہ کے بانی کے ساتھ ہو اس کی طرف لوگوں کی نظریں اٹھتی ہیں اور وہ بھی انہی کے طریق پر چلنے کی کوشش کرتے ہیں۔چنانچہ ہماری جماعت میں عام طور پر لڑ کیوں کے نام امہ کے لفظ کے ساتھ رکھے جاتے ہیں بلکہ یہ ایک فیشن ہو گیا ہے کہ لڑکیوں کے نام امتہ اللہ يا امة العزيز يا امتة الحفظ وغیرہ رکھا جائے۔میں سمجھتا ہوں کہ یہ بڑی مبارک بات ہے اور جتنی بڑھے اتنی ہی اچھی بات ہے مگر مصیبت یہ ہے کہ بعض دفعہ حقیقت کو نظر انداز کر کے بغیر سوچے سمجھے نام رکھ دیئے جاتے ہیں حالانکہ وہ مشر کا نہ ہوتے ہیں۔چنانچہ اس جلسہ میں تین لڑکیاں ایسی معلوم ہوئیں جن کے نام مشرکانہ تھے۔ان میں سے ایک تو را ولپنڈی کی تھی اور دو بعض اور مقامات کی۔ان میں سے کسی کا نام امۃ الشہیر تھا اور کسی کا نام امتہ الشریف۔حالانکہ شبیر اور شریف خدا تعالیٰ کا نام نہیں۔انہوں نے غالباً یہ سمجھا کہ امہ کے لفظ سے برکت حاصل ہوتی ہے حالانکہ امتہ کے لفظ سے نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ