تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 197
197 عورتوں کی عام حالت یہ ہے کہ چونکہ ان میں دینی تعلیم کم ہے اگر ان کے خاوند کسی وقت مرند ہوتے ہیں تو ساتھ ہی وہ بھی مرتد ہو جاتی ہیں چنانچہ آج تک جتنے لوگ مرتد ہوئے ہیں ان کے ساتھ ہی ان کی بیویاں بھی مرتد ہوتی رہی ہیں۔اس سے صاف پتہ لگتا ہے کہ ان کا ایمان محض رسمی تھا۔اس کے مقابلہ میں جہاں صحیح ایمان تھا وہاں بعض عورتوں نے اپنے خاوندوں کا اتنا سخت مقابلہ کیا کہ آخر انہیں دین کی طرف واپس لے آئیں۔لیکن جہاں بھی عورت کی دینی تعلیم کم تھی وہاں خاوند کو ٹھوکر لگی تو ساتھ ہی عورت بھی ٹھو کر کھا گئی۔پس ضروری ہے کہ ہمارے پاس اس مسجد سے بڑی مسجد ہو اور ضروری ہے کہ یہاں کے مقامی مبلغ لجنہ اماءاللہ کو توجہ دلا کر ایسا انتظام کریں کہ عورتوں کو دینی تعلیم دی جاسکے وہ ان کے سامنے نبوت۔وفات مسیح۔صداقت مسیح موعود اور موجودہ زمانہ کے اہم مسائل پر تقریریں کریں اور پھر سادہ اور آسان الفاظ میں ان کو نوٹ لکھوائیں تاکہ وہ ان کو یاد رکھیں اور ضرورت کے وقت ان سے فائدہ اٹھا سکیں۔میں سمجھتا ہوں کہ اگر اس رنگ میں عورتوں کو تعلیم دی جائے ، ان کے سامنے تقریریں کی جائیں اور انہیں مختلف مسائل پر نوٹ لکھوائیں جائیں تو تھوڑے ہی دنوں میں عورتوں کی تبلیغ مردوں سے آگے نکل جائے گی اور اگر عورتوں میں ہمارا تبلیغی اثر پہنچ جائے تو مرد خود بخو د سلسلہ کی طرف توجہ کرنے پر مجبور ہوں گے۔۔۔جہاں تک تعلیم کا سوال ہے رسول کریم ﷺ کے زمانہ میں اتنی تعلیم نہ تھی جتنی آج کل عورتوں میں پائی جاتی ہے مگر اس کے باوجودان میں کتنی بلند خیالی پائی جاتی تھی۔کتنی بلند حوصلگی پائی جاتی تھی۔کتنی قربانی پائی جاتی تھی۔کتنی علم دین حاصل کرنے کی تڑپ پائی جاتی تھی۔کتنا عمل پایا جا تا تھا۔اس کی وجہ صرف یہ تھی کہ ان کو آگے بڑھنے کا موقع دیا جاتا اور ان کے جذبات کود بایا نہیں جاتا تھا۔بہر حال صحیح تربیت کے لئے ضروری ہے کہ عورتیں دین سیکھیں اور عورتوں کے لئے دین سیکھنے کا کم سے کم موقع یہ ہے کہ وہ جمعہ میں آئیں اور خطبہ سنیں۔“ اے لڑکیوں کے ناموں کے متعلق ایک غلطی کی اصلاح:۔۲۹ دسمبر کو بمقام، یوہ خطبہ جمعہ سے قبل حضرت امیر المومنین خلیفہ اسی الثانی نے متعدد نکاحوں کا اعلان فرمایا۔اس کے دوران حضور نے جماعت کو اس کی ایک غلطی کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔ا الفضل لا ہورا ا را کتوبر ۱۹۵۰ء ص ۳ تاص۸