تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 196
196 وہ اس لئے بگڑے کہ عورتوں نے اپنی ذمہ داری نہ مجھی اور انہوں نے اپنی اولا د کو ایسی تعلیم نہ دی جس کے ماتحت وہ اپنے والدین کے نقش قدم پر چلنے والے ہوتے۔پس عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر دین بخش سکتی ہیں۔عورتیں اگر چاہیں تو وہ دنیا کو مستقل طور پر ایمان بخش سکتی ہیں۔“ لے عورتوں کی دینی تعلیم کے متعلق حضرت مصلح موعودؓ کی جماعت کو نصائح :۔حضرت مصلح موعودؓ نے ۲۹ ستمبر ۱۹۵۰ء کو لاہور میں خطبہ جمعہ ارشاد فرماتے ہوئے احباب جماعت کو یہ نصیحت فرمائی کہ عورتوں کے لئے دین سیکھنے کے زیادہ سے زیادہ مواقع پیدا کریں۔حضور نے فرمایا:۔عورتوں کی اصل ذمہ داری اولاد کی صحیح تربیت کرنا ہے تو ان کی تعلیم صرف اس رنگ میں ہونی چاہئے کہ کچھ دینی تعلیم ہو اور کچھ دنیوی تعلیم تا کہ اپنی اولاد کو اسلام کی خدمت کے لئے تیار کر سکیں۔۔پس عورتوں کا دین کی تعلیم سے واقف ہونا نہایت ضروری ہے اور کم سے کم تعلیم جو کسی عورت کو حاصل ہوسکتی ہے وہ جمعہ اور عیدین کے خطبات میں شامل ہو کر ہی حاصل ہوسکتی ہے مثلاً یہی جو میرا خطبہ ہے اس میں سے اگر خالص امور عورتوں کے متعلق نکالے جائیں تو کئی نکالے جاسکتے ہیں۔۔۔پس اگر ہماری عورتوں کو اس طرح تعلیم نہیں دی جاتی کہ وہ اپنے بچوں کی تربیت کے فرائض کو صحیح طریق پر سرانجام دے سکیں تو ان کی یہ بات ٹھیک ہے کہ انہیں چاردیواری میں قید کر دیا گیا ہے کیونکہ ان کی تعلیم کے لئے کوئی موقع ہی پیدا نہیں کیا جاتا۔یہی چھوٹی سی بات دیکھ لو کہ آپ کی مسجد میں پانچویں یا چھٹے حصہ کے برابر عورتوں کی گنجائش ہے حالانکہ عورتیں مردوں سے نصف ہیں۔۔۔۔پھر تعلیم وہ کہاں حاصل کر سکتی ہیں اور دین کی واقفیت انہیں کس طرح ہو سکتی ہے ابھی ہمیں ایسی سہولتیں میسر نہیں کہ ہم ہر جگہ قرآن کریم کا درس جاری کر سکیں جیسا کہ قادیان میں ہوا کرتا تھا اور جیسا کہ ربوہ میں انشاء اللہ ہو جائے گا۔لیکن اگر ہم اس بات پر قادر نہیں کہ ہر جگہ ایسا انتظام کر سکیں تو کم سے کم جمعہ کو ایک خطبہ تو عورت کو سنے کا موقع دینا چاہئیے میں تو سمجھتا ہوں کہ اگر عورتوں کے اندر بیداری پیدا کر دی جائے اور انہیں دین سے واقف کیا جائے تو وہ اپنے مردوں کو نہایت آسانی کے ساتھ راہ راست پر لاسکتی ہیں۔ل الازهار لذوات الخمار حصہ دوم ص ۸۹ تا ص ۹۹