تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 194
194 جس کا نام لے کر تم دُنیا میں اپنی اغراض پوری کرتے ہو اور جس کے نام کے ساتھ تم لوگوں سے رحم اور انصاف کی اپیل کرتے ہو اور کہتے ہو خدا کے واسطے یہ معاملہ یوں کرو خدا کے واسطے یہ معاملہ یوں کرو۔فرماتا ہے جب تم لوگ یہ کہتے ہو کہ خدا کے واسطے ہمارے ساتھ یوں معاملہ کرو تو تم ہماری طاقت اور قوت کا اقرار کرتے ہو۔لیکن ہم تمہیں یہ کہتے ہیں کہ تم جب انسانوں سے خدا کے نام پر اپیل کرتے ہو تو تم کیوں اسی خدا کے پاس نہیں جاتے اور اس سے براہِ راست اپنا تعلق پیدا نہیں کرتے جو تمام تکلیفوں کو دور کرنے والا ہے۔“ پھر عورت و مرد کی ذمہ داریوں میں فرق بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا:۔اس آیت میں جہاں تک قوتوں کا سوال ہے جہاں تک جذبات کا سوال ہے جہاں تک افکار کا سوال ہے مردوں اور عورتوں کو برابر قرار دیا گیا ہے۔اور جب وہ برابر ہیں اور جب ان کی طاقتیں بھی برابر ہیں تو ان کو کام بھی ایک جیسا ہی کرنا چاہیئے مگر یہ غلط ہے۔دُنیا میں ایک کالج سے ہی تین نوجوان بی اے کی تعلیم حاصل کر کے فارغ ہوتے ہیں لیکن اس کے بعد ایک انجنئیر نگ کی طرف چلا جاتا ہے ایک وکیل بن جاتا ہے اور ایک اچھا ایڈ منسٹریٹر بن جاتا ہے۔اب جہاں تک تعلیم کا سوال ہے تینوں کو تعلیمیافتہ قرار دیا جائے گا لیکن ان کی ذمہ داریوں میں فرق ہے۔اسی طرح عورت کی ذمہ داری یہ ہے کہ وہ اپنے بچوں کو تعلیم دے اور انہیں اچھا شہری بنائے۔اسی طرح جو فوجی کام ایسے ہیں جن میں عورت زیادہ بہتر طور پر اپنے فرائض ادا کر سکتی ہے ان میں حصہ لے مثلاً نرسنگ ہے یہ کام عورت زیادہ بہتر کر سکتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم جنگ پر تشریف لے جانے لگے تو ایک صحابیہ آئیں اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ ! میں بھی جنگ پر جانا چاہتی ہوں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا وہاں عورت کیا کرے گی؟ اس نے کہا یا رسول اللہ ! کیا میں نرسنگ نہیں کر سکتی میں زخمیوں اور بیماروں کی تیمار داری اور ان کی مرہم پٹی کروں گی۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اچھا چلو۔۔۔سواصل کاموں کو قائم رکھتے ہوئے جو بچوں کی پرورش اور ان کی نگرانی کے ساتھ تعلق رکھتے ہیں جو زائد کام عورت کر سکتی ہو شریعت نے اس کی اجازت دی ہے۔۔لیکن سب سے بڑا کام جو عورت کے ذمہ لگایا گیا ہے وہ تربیت صحیحہ ہے یعنی اولادکو مسیح اور سچا مسلمان بنانا۔بہت سی عورتیں یہ