تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 193 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 193

193 ہی قسم کے جذبات کے ساتھ ، ایک ہی قسم کے ارادوں کے ساتھ ، ایک ہی قسم کی فکروں کے ساتھ ، ایک ہی قسم کی اُمنگوں کے ساتھ۔گویا اس آیت میں یہ بات بتائی گئی ہے کہ مردو عورت جہاں تک نفس کا تعلق ہے برابر ہیں اور ایک ہی اصل پر چل رہے ہیں۔جس قسم کی باتیں مرد کو غصہ دلا سکتی ہیں ویسی ہی باتیں ایک عورت کو بھی غصہ دلا سکتی ہیں۔جس قسم کے سلوک کو ایک مرد نا پسند کرتا ہے ویسے ہی سلوک کو ایک عورت بھی نا پسند کرتی ہے۔اور جس قسم کے جذبات ایک مرد میں پائے جاتے ہیں ویسے ہی جذبات ایک عورت میں پائے جاتے ہیں۔پس جہاں تک نفس انسانی کا تعلق ہے وہی نفس مرد میں پایا جاتا ہے وہی نفس عورت میں پایا جاتا ہے۔مردوں اور عورتوں کے یکساں جذبات کا ذکر کرتے ہوئے آپ نے پھر فرمایا:۔یہ ایک اصولی بات قرآن کریم میں بیان کی گئی ہے جس میں اسلام کو باقی تمام مذاہب پر فوقیت حاصل ہے۔دُنیا میں کوئی مذہب ایسا نہیں جس نے یہ بیان نہ کیا کہ عورت ومرد کے جذبات اور احساسات اور اُمنگیں ایک ہی قسم کی ہیں۔یہ خیال کر لینا کہ مرد اور قسم کے ہیں اور عورتیں اور قسم کی ہیں غلط ہے۔جیسے ایک عمارت میں اگر کچھ لوگ رہتے ہیں اور ان کے ہمسایہ میں بعض اور لوگ ٹھہرے ہوئے ہیں تو یہ نہیں کہا جا سکتا کہ یہ اور قسم کے مرد ہیں اور وہ اور قسم کے مرد ہیں۔بلکہ باوجود الگ الگ محلوں الگ الگ مکانوں اور الگ الگ شہروں میں رہنے کے ہر شخص سمجھتا ہے کہ تمام لوگ ایک جیسی طاقتیں رکھتے ہیں۔اسی طرح بے شک عورت و مرد کے جسم الگ الگ ہیں۔مگر طاقتیں ایک جیسی ہیں اور ان کے جسموں کا الگ الگ ہونا ایسا ہی ہے جیسے الگ الگ مکان میں مختلف لوگ رہ رہے ہیں۔اگر عورت کے جسم میں رُوح آجائے تو وہ کوئی الگ چیز نہیں بن جاتی بلکہ اس کے اندر بھی وہی روح ہے جو مرد کے اندر ہے صرف اس کے جسم کی بناوٹ مرد سے علیحدہ ہے ورنہ اس کے اندر وہی روح پائی جاتی ہے جو مردوں کے اندر پائی جاتی ہے۔۔۔یہ مضمون جو قرآن کریم بیان فرماتا ہے جو دُنیا کی کسی اور کتاب میں نہیں دیا گیا اس سے اللہ تعالیٰ یہ سبق دیتا ہے کہ واتقوا الله الذي تساءلون به والارحام ان الله کان علیکم رقیبا۔فرماتا ہے اے مردو اور اے عور تو اس خدا کو اپنی ڈھال بنالو