تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 187
187 (۳) تیسرا امتحان کتاب احمدی اور غیر احمدی میں فرق ، دلائل ہستی باری تعالیٰ اور قرآن مجید کا ہوا۔یہ امتحان ۲۳۔جولائی کو ہوا اس میں ۱۳۸ ممبرات شامل ہوئیں جن میں سے ۱۱۸ کامیاب ہوئیں۔اوّل: حمیدہ صاحبہ چک نمبر ۹۶ گ۔بضلع لائل پور دوم :۔امتہ الرحمن صاحبہ چنیوٹ سوم :۔نعیمہ مبارکہ صاحبہ سرگودہا (۴) ۳۔نومبر کو کتاب اسوۂ حسنہ کا امتحان ہو ا جس میں صرف ۱۳ لڑکیاں شامل ہوئیں اس میں مسز زینب حسن صاحبہ اہلیہ محمودالحسن صاحب لاہور اول رہیں امتہ التی لائبریری کا احیاء لجنہ اماءاللہ کی شوری بر موقع جلسہ سالانہ ۱۹۴۹ء کے فیصلہ کے مطابق لائبریری کے لئے چندہ لیا جانا شروع ہو چکا تھا۔چنانچہ یکم نومبر ۱۹۵۰ء کو دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ میں امتہ الحی لائبریری کا احیاء کیا گیا۔تلاوت قرآن محترمہ استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ نے کی بعد ازاں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے تقریر فرمائی۔آپ نے فرمایا کہ:۔یہ لائبریری جس کا آج احیاء کیا جارہا ہے کہ حضرت سیدہ امتہ الحی صاحبہ کی یادگار کے طور پر قائم کی گئی تھی اور اس لئے اس کا نام امتہ الحی لائبریری رکھا گیا۔قادیان میں میری انتہائی خواہش تھی کہ میں اس لائبریری کو ترقی دوں لیکن لائبریری کے لئے کوئی الگ فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے میری یہ خواہش عملی جامہ نہ پہن سکی۔لائبریری بہت چھوٹے پیمانہ پر تھی۔اس کو ترقی دینے کی سکیمیں بنائی جارہی تھیں کہ وہ سیلاب عظیم آیا کہ جس نے ہمیں اپنے مرکز سے اتنی دور لا پھینکا۔خدا تعالیٰ کی مشیت یہی تھی جماعت منتشر ہوئی لیکن اولو العزم محمود کے ذریعہ بکھری ہوئی جماعت کے دانے پھر ایک لڑی میں پرو دیئے گئے۔اللہ تعالیٰ نے ہمیں ایک مرکز ثانی عطا فرمایا اور توفیق دی کہ ہم اپنے تمام کام اسی لے لائبریری کا اجراء ۱۶۔ستمبر ۱۹۲۷ء کو قادیان میں ہو ا تھا۔تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد اول ص ۲۶۴