تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 177 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 177

177 ۹- محترمہ صوباں بی بی صاحبہ اہلیہ مستری قطب الدین صاحب ومحتر مہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ ماسٹر فقیر اللہ صاحب مرحوم کے ۱۰۔صاحب بیوی صاحبہ والدہ مولوی محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم و حضرت سیدہ امتہ الطیف صاحبہ مرحومہ اہلیہ حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب ہے (بقیه حاشیہ صفحہ گزشتہ) حضرت خلیفہ امسیح الثانی کے درس قرآن مجید کیلئے جگہ کا انتظام بھی آپ فرمایا کرتی تھیں۔محترمہ استانی رحمت النساء صاحبہ اہلیہ محترم ماسٹر مولا بخش صاحب والدہ نصیرہ نزہت صاحبہ۔تاریخ پیدائش جولائی ۱۸۸۹۔۶۵ سال کی عمر میں ۵۴-۶-۲۶ کو وفات پائی اور مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔اپنے بچوں کی تربیت ایسے رنگ میں کی تینوں بچوں نے خدمت دین کے لئے زندگی وقف کی۔لجنہ کے کاموں میں شوق سے حصہ لیتی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں دو دفعہ قادیان حاضر ہونے کا شرف حاصل ہوا۔محترمہ صوباں بی بی صاحبہ۔زوجہ مستری قطب الدین صاحب ولادت ۱۸۸۲ء۔بیعت ۱۹۰۵ء ۸۰ سال کی عمر میں ۶۲-۲-۲۰ کو وفات پائی۔آپ نے کثیر تعداد میں بچوں کو قرآن مجید پڑھایا۔محترمہ سردار بیگم صاحبہ اہلیہ ماسٹر فقیراللہ صاحب بنت ملک کمال الدین صاحب ستمبر ۱۹۰۱ء میں شادی ہوئی۔مرحومہ کے خاوند عرصہ تک غیر مبائعین میں شامل رہے مگر مرحومہ جماعت مبائعین میں شامل رہیں اور قادیان میں آمد ورفت کا سلسلہ ہمیشہ جاری رکھا۔بالآخر ان کے شوہر کو بھی بیعت خلافت کی توفیق مل گئی۔تاریخ وفات ۱۰۔اکتو بر ۱۹۶۰ء مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔ے محترمہ صاحب بیوی صاحبہ - حضرت مولوی فخر الدین صحابی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی بیوی تھیں۔خود بھی صحابیہ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔۱۸۸۵ء میں مڈھ رانجھا ضلع سرگودہا میں پیدا ہوئیں۔۱۹۰۵ء میں آپ نے اما مزمان کی دستی بیعت کی۔مرحومہ کے بیٹوں میں سے مولانا محمد یعقوب صاحب طاہر مرحوم ( انچارج صیغہ زود نویسی ) اور محترم محمد ابراہیم صاحب ناصر مرحوم (لیکچر ارتعلیم الاسلام ربوہ ) کوخدمات دینیہ بجالانے کی خصوصی سعادت حاصل ہوئی۔حضرت سیدہ امتہ الطیف صاحبہ بیگم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب بنت حضرت مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی سابق محاسب صدر انجمن احمدیہ ( والدہ ماجدہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی ) پیدائش ۱۹۰۲ء۔آپ ۱۹۱۷ء میں حضرت میر صاحب کے عقد میں آئیں۔آپ کو حضرت خلیفتہ المسیح الثانی کی خوش دامن ہونے کا شرف حاصل ہوا۔سات بیٹیاں اور تین بیٹے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے جن کی بہترین پرورش اور اعلیٰ تربیت فرمائی۔غریبوں کی ہمدردو غم خوار، بیواؤں اور یتامیٰ کا درد رکھتی تھیں۔نہایت منکسر المزاج ،صابر وشاکر خاتون تھیں۔عمر ۶۲ سال۔وفات ۱۶، ۱۷۔دسمبر ۱۹۶۴ ء کی درمیانی شب بمقام لاہور ہوئی۔مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔