تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 178
178 ۱۱ محترمه نعمت بی بی صاحبہ ومحتر مہ عمل پری صاحبہ اہلیہ خان میر صاحب کے حضرت سیدہ امتہ الطیف صاحبہ بیگم حضرت ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب بنت حضرت مرزا محمد شفیع صاحب دہلوی سابق محاسب صدر انجمن احمدیہ ( والدہ ماجدہ حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی) پیدائش ۱۹۰۲ ء۔آپ ۱۹۱۷ء میں حضرت میر صاحب کے عقد میں آئیں۔آپ کو حضرت خلیفتہ المسح الثانی کی خوش دامن ہونے کا شرف حاصل ہوا۔سات بیٹیاں اور تین بیٹے اللہ تعالیٰ نے عطا فرمائے جن کی بہترین پرورش اور اعلیٰ تربیت فرمائی۔غریبوں کی ہمدرد و غم خوار، بیواؤں اور یتامی کا درد رکھتی تھیں۔نہایت منکسر المزاج ، صابر وشاکر خاتون تھیں۔عمر۶۲ سال۔وفات ۱۶، ۱۷۔دسمبر ۱۹۶۴ء کی درمیانی شب بمقام لاہور ہوئی۔مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔محترمہ نعمت بی بی صاحبہ اہلیہ مستری جان محمد صاحب: مرحومہ مکرم فضل الرحمن صاحب صدر جماعت احمدیہ حلقہ لالوکھیت کراچی کی والدہ تھیں۔۱۹۵۲ء میں کوئٹہ میں وفات پائی۔بہت مہمان نواز تھیں۔محترمہ امتہ اللہ بیگم عرف لعل پری صاحبہ بنت سید صاحب نور خاں صاحب اہلیہ محترم خان میر صاحب افغان اس وقت آپ کی عمر ۷۵ سال ہے۔جب حضرت صاحبزادہ سید عبداللطیف صاحب شہید کو افغانستان کی حکومت نے گرفتار کر لیا تو آپ کے والد اپنے بھائی احمد نور صاحب کابل کے ہمراہ ہجرت کر کے قادیان آگئے۔آپ کو اپنی والدہ صاحبہ کے ہمراہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خدمت کرنے کا شرف حاصل ہوا۔حضرت اُم المومنین اور حضرت بیگم صاحبه حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب کی خدمت کا بھی موقع ملا۔۱۹۵۷ء میں آپ کے ایک بیٹے محمد احمد صاحب کو قبائلی علاقہ میں شہید کر دیا گیا آپ نے اس موقع پر صبر کا نمونہ دکھایا۔آپ کے ایک بیٹے شیر احمد صاحب اس وقت قادیان میں درویش ہیں۔محترمہ لعل پری صاحبہ کے متعلق ایک واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب نے اپنی ایک تقریر بر موقع جلسہ سالانہ میں فرمایا:۔اب کابل سے آئی ہوئی ایک غریب مہاجر احمدی عورت کا بھی ذکر سُن لو جس نے غیر معمولی حالات میں حضرت مسیح موعود کے دم عیسوی سے شفاء پائی۔مسماۃ امتہ اللہ بی بی سکنہ علاقہ خوست مملکت کا بل نے مجھ سے بیان کیا کہ جب وہ شروع شروع میں اپنے والد اور چا سید صاحب نور اور سید احمد نور کے ساتھ قادیان آئی تو اُس وقت اس کی عمر بہت چھوٹی تھی اور اس کے والدین اور چا چی حضرت سید عبداللطیف صاحب شہید کی شہادت کے بعد قادیان چلے آئے تھے۔مسماۃ امتہ اللہ کو بچپن میں آشوب چشم کی سخت شکایت ہو جاتی تھی اور آنکھوں کی تکلیف اس قدر بڑھ جاتی تھی کہ انتہائی در داور سُرخی کی شدت وجہ سے وہ آنکھ کھولنے تک کہ طاقت نہیں رکھتی تھی۔اس کے والدین نے اس کا بہت علاج کرایا مگر کچھ افاقہ نہ ہوا اور تکلیف بڑھتی گئی۔ایک دن جب اس کی والدہ اسے پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دوائی ڈالنے لگی تو وہ ڈر کر یہ کہتے ہوئے بھاگ گئی کہ میں تو حضرت صاحب سے دم کراؤں گی۔(بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر)