تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 175 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 175

175 صاحب۔محترمہ مائی کا کو صاحبہ مرحومہ و محترمہ استانی برکت بی بی صاحبہ مرحومہ اہلیہ محترم ٹھیکیدار اللہ یار (بقیہ حاشیہ صفحہ گزشتہ ) سرگودہا کی لجنہ میں محصلہ کا کام کرنے کی توفیق ملی۔محترمہ امیر بی بی صاحبہ ( والدہ مولوی قمر الدین صاحب): آپ حضرت میاں خیر الدین صاحب سیکھوانی کی اہلیہ اور خواجہ محمد شریف صاحب آف قادیان کی پھوپھی تھیں۔آپ کے خاوند ۳۱۳ اصحاب میں شامل تھے۔۱۸۸۹ء میں ان کے ساتھ ہی بیعت سے مشرف ہوئیں۔نہایت متقی اور پرہیز گار تھیں۔قرآن مجید پڑھانا ان کو بہت محبوب تھا۔جماعت سیکھواں کی بہت سی لڑکیوں کو قرآن مجید پڑھایا۔حضرت اُم المومنین آپ سے بہت محبت فرماتی تھیں۔کئی بار سیکھواں میں جا کر ان کے ہاں قیام فرمایا۔ان کی صفائی کی عادت کو خاص طور پر بہت پسند فرماتی تھیں۔ے محترمہ مائی کا کو صاحبہ: اصلی نام امیر بی بی تھا۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اصحاب سیکھوانی برادران ( حضرت میاں جمال الدین صاحب، میاں امام الدین صاحب اور میاں خیر الدین صاحب کی ہمشیرہ اور محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کی پھوپھی تھیں۔عدلیوالہ ضلع امرتسر میں شادی ہوئی مگر خاوند فوت ہو گئے۔ایک لڑکا ہو مگر وہ بھی عالم جوانی میں وفات پا گیا۔ابتدائی زمانہ میں ہی اپنے بھائیوں کے ساتھ بیعت میں شامل ہوگئیں۔بیوہ ہونے بعد پہلے اپنے بھائیوں کے پاس چلی گئیں۔اور پھر حضرت اُم المومنین کی خدمت میں اپنی زندگی گزاری۔ہر وقت آپکی اور دیگر خواتین مبار که خاندان حضرت مسیح موعود کی خدمت کے لئے کمر بستہ رہتی تھیں۔صوم وصلواۃ کی پابند، تہجد گزار اور خدمت خلق میں پیش پیش رہتی تھیں۔جماعت کی مالی تحریکات میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔دو دفعہ حج کرنے کی توفیق ملی۔خاندان حضرت مسیح موعود اور بالخصوص حضرت ام المومنین سے قرب اور خدمت کی وجہ سے جماعت میں انہیں بہت عزت واحترام حاصل تھا۔آخر دم تک خدمت میں مصروف رہیں۔۸۵ سال کی عمر میں ۵۳-۵-۱۱ کو وفات پائی اور مقبرہ بہشتی ربوہ میں مدفون ہیں۔محترمه برکت بی بی صاحبہ بنت حضرت منشی وزیر الدین صاحب زوجہ اللہ یا ر صاحب صحابی : تاریخ پیدائش انداز ۱۸۷۸ ء تاریخ وفات ۶۵-۱۰-۵ بعمر ۸۵ سال۔صحابیہ تھیں۔مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔آپ ۱۹۰۰ء میں ہجرت کر کے قادیان آگئیں تقسیم ملک تک وہیں رہیں بعد ازاں ربوہ آگئیں۔عمر بھر قرآن کریم پڑھانے کا سلسلہ جاری رکھا۔آپ سے پڑھنے والوں کی تعداد بہت زیادہ ہے لوائے احمدیت کے لئے روئی بیلینے اور سوت کاتنے کا شرف حاصل کیا۔۳/ احصہ کی وصیت کی تحریک جدید کی پانچ ہزاری فوج میں بھی ان کا نام شامل ہے۔قادیان میں لجنہ کا کام کرتی رہیں۔ربوہ آکر مسجد میں نماز جمعہ کے انتظام میں حصہ لیتی رہیں۔