تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 174
174 و -۴- محترمہ چراغ بی بی صاحبہ مرحومہ والدہ محترم مولوی محمد صدیق صاحب محترمه حسین بی بی صاحبہ مرحومہ والدہ محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس 1 ۵ محترمہ مائی امام بی بی صاحبہ مرحومه ومحترمہ امیر بی بی صاحبہ مرحومہ والدہ محترم مولوی قمر الدین صاحب کے محترمه چراغ بی بی صاحبہ بنت حضرت منشی وزیر الدین صاحب ( جو۳۱۳ اصحاب حضرت مسیح موعود میں سے تھے ) والدہ محترم چوہدری محمد شریف صاحب مبلغ بلا و عر بیہ گیمبیا محترم چوہدری محمد صدیق صاحب صدر عمومی ربوہ۔۱۸۸۶ء میں پیدا ہوئیں۔انداز ۹۱ - ۱۹۹۰ء میں بیعت کا شرف حاصل کیا تبلیغ کا غیر معمولی شوق تھا۔سلسلہ کی مالی تحریکات میں باقاعدگی سے حصہ لیتی تھیں۔۱۹۳۰ء میں ہجرت کر کے قادیان چلی گئیں۔لوائے احمدیت کے لئے سوت کاتنے میں حصہ لیا۔لجنہ کے کاموں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیتی تھیں۔تاریخ وفات ۵۹-۱-۳ مقبرہ بہشتی ربوہ میں دفن ہوئیں۔محترم حسین بی بی صاحبہ زوجہ حضرت میاں امام دین صاحب مرحوم سیکھوانی: ولادت ۱۸۷۰ء بیعت ۱۸۹۱ء۔وفات ۹۶۰ - ۱۹۔عمر ۹۰ سال۔وصیت نمبر ۴۳۴۔حصہ وصیت ۱/۶ آپ محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس کی والدہ تھیں۔آپ کے خاوند حضرت میاں امام الدین صاحب سیکھوانی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ۳۱۳ اصحاب میں سے تھے۔آپ نے ان کے ساتھ ہی احمد بیت قبول کی۔صوم وصلوٰۃ کی پابند اور خاموش طبع خاتون تھیں۔دین کی خاطر بڑی قربانی کرتی تھیں محترم شمس صاحب لمبے عرصہ تک تبلیغ اسلام کے لئے فلسطین میں اور پھر انگلستان میں مقیم رہے ان کی عدم موجودگی میں ان کے بڑے بھائی بشیر احمد صاحب اور ان کے والد اور مرحومہ کے شوہر حضرت میاں امام الدین صاحب نے وفات پائی تو مرحومہ نے بڑے صبر کا نمونہ دکھایا۔مکرم بشیر احمد صاحب نے اپنی آخری علالت میں یہ خواہش ظاہر کی کہ میں اپنے بھائی سے ملنا چاہتا ہوں۔مرحومہ نے یہ خواہش محض اس لئے شمس صاحب تک نہ پہنچائی کہ اس سے وہاں ان کی خدمت دین میں کسی قسم کا خلل واقع نہ ہو۔جب حضرت اقدس خلیفہ اسیح الثانی نے تحریک جدید کے چندہ کا اعلان فرمایا تو آپ نے اپنی س سونے کی بالیاں پیش کر دیں۔دعاؤں میں گہرا شغف تھا۔رسوم و بدعات سے ہمیشہ پر ہیز رہا۔اللہ تعالیٰ بلند درجات عطا فرمائے! آمین محترمهائی امام بی بی صاحبہ اہلیہ ٹھیکیدار محمد اکبر صاحب: ولادت ۱۸۶۲ء۔بیعت ۱۹۰۰ ء سے پہلے وفات ۵۷۔۳۔۲۹ عمر ۹۵ سال حضرت ام المومنین کی خصوصی خدمت کا شرف حاصل تھا۔کئی سفروں میں آپ کے ساتھ رہیں آپ نے دو حج کئے ایک اپنا اور دوسرا حضرت اُم المومنین کی طرف سے۔آپ کی لڑکی محترمہ اللہ رکھی صاحبہ کو (بقیہ حاشیہ اگلے صفحہ پر )