تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 173 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 173

173 دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی عمارت کا سنگ بنیاد: ۳۱۔ہجرت مطابق ۳۱ مئی ۱۹۵۰ء صبح ساڑھے چھ بجے حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے دست مبارک سے دفتر لجنہ اماءاللہ مرکز یہ ربوہ کی عمارت کاسنگ بنیا درکھا۔ستمبر ۱۹۴۸ء میں ربوہ کی بنیا درکھی گئی تو لجنہ مرکزیہ نے چوبیں سو روپیہ ۲۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو ( بحساب ایک سو روپیہ فی کنال ) ادا کر کے ۲۴ کنال زمین دفاتر لجنہ مرکزیہ کے لئے حاصل کر لی تھی لیکن حضرت خلیفہ المسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ نے از راہ شفقت دفتر لجنہ کی زمین کی قیمت واپس عطا فرما دی۔حضور نے تین اینٹیں اپنے دست مبارک سے نصب فرما ئیں جس کے بعد حضور کے ارشاد پر حضرت مفتی محمد صادق صاحب محترم مولانا جلال الدین ستمس ، عبدالشکور صاحب (جرمن نومسلم ) رشید احمد صاحب (امریکن نومسلم)، سید عبدالحمید صاحب آفندی مصری، سید ابراہیم عباس صاحب سوڈانی، فضل خاں صاحب ترکستانی اور حضرت مولوی محمد دین صاحب صدر ، صدر انجمن احمد یہ نے علی الترتیب ایک ایک اینٹ رکھی۔پھر محمد حسین صاحب برمی نے بھی ایک اینٹ رکھی۔آخر میں حضور نے اجتماعی دعا کرائی لے دوسرے دن یعنی یکم جون ۱۹۵۰ء صبح 4 بجے لجنہ اماءاللہ کی نمبرات کا اجتماع ہوا۔سب سے پہلے سیدۃ النساء حضرت اُم المومنین تو راللہ مرقدہانے اپنے دست مبارک سے اینٹ نصب فرمائی پھر صحابیات حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے باری باری اینٹیں رکھوائی گئیں۔سب سے پہلے حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا صدر لجنہ اماء اللہ نے اس کے بعد حضرت سیّدہ ام داؤد صاحبہ نائب صدر لجنہ اماءاللہ نے اینٹیں رکھیں۔چونکہ صحابیات کی تعداد زیادہ تھی اور اینٹیں تھوڑی تھیں اس لئے یہ فیصلہ کیا گیا کہ ایک اینٹ دو دو عورتیں مل کر رکھیں۔چنانچہ مندرجہ ذیل ترتیب کے ساتھ اینٹیں رکھی گئیں:۔ا۔حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا ۲۔حضرت سیدہ اُمم ناصر صاحبہ رضی اللہ تعالی عنہا۔حضرت سیدہ اُمم داؤ د صاحبہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا ل الفضل ۶۔جون ۱۹۵۰ء صفویم