تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 10
10 10 جس کا انہوں نے باصرار اظہار بھی کیا کہ موت کے خطرہ سے انہیں قادیان سے باہر نہ بھیجا جائے۔اگر اب موت ہی مقدر ہے تو قادیان سے بہتر جگہ اور کونسی ہو سکتی ہے؟ پھر ان کا یہ بھی مطالبہ تھا کہ خطرہ کے وقت ممکن خدمات سرانجام دینے کے موقع سے انہیں کیوں محروم کیا جاتا ہے۔لیکن جب بتایا گیا کہ ان کی موجودگی مردوں کی سرگرمیوں میں مشکلات اور رکاوٹیں پیدا کرنے کا موجب ہوگی اور دشمن کا مقابلہ اس اطمینان اور انہماک سے نہ ہو سکے گا جو ان کے چلے جانے کے بعد کیا جا سکتا ہے تو وہ بادل نانخواستہ قادیان سے باہر جانے پر آمادہ ہوسکیں۔چونکہ خواتین اور بچوں کو محفوظ طریق سے باہر بھیجنے میں سخت مشکلات درپیش تھیں۔ذرائع آمد ورفت بالکل مفقود تھے اور راستہ کے خطرات بے شمار۔سرکاری حفاظت میں لاریوں اور ٹرکوں کا ملنا نہایت دشوار تھا۔ان حالات میں تجویز یہ کی گئی کہ جوں جوں ٹرک میسر آتے جائیں پہلے بیمار، کمزور اور گود میں بچہ رکھنے والی عورتوں کو لڑکیوں اور چھوٹے بچوں کو بھیجا جائے۔اس کے لئے محلوں کے پریذیڈنٹوں سے فہرستیں طلب کی جائیں اور آمدہ لڑکوں میں گنجائش کے مطابق نہایت چھان بین اور غور و خوض کے بعد حضرت مرزا بشیر احمد صاحب اپنے دستخطوں سے ٹکٹ جاری فرماتے اور ساری ساری رات اپنے عملہ سمیت اس کام میں مصروف رہتے۔اس کا اندازہ مجھے اس سے ہوا کہ پہلی دفعہ میرے گھر کی مستورات کا ٹکٹ رات کے قریباً دو بجے پہنچا مگر بارش کی وجہ سے سوار نہ کرایا جا سکا۔دوسری دفعہ بھی ٹکٹ رات کے بارہ بجے کے بعد پہنچا۔جب چند ٹرک پہنچتے تو ان کی واپسی کے انتظامات شروع کر دیئے جاتے اور روز بروز نازک سے نازک تر ہوتے جانے والے حالات کے پیش نظر اس بات کی انتہائی کوشش کی جاتی کہ زیادہ سے زیادہ عورتوں اور بچوں کو بھیجا جا سکے۔اس وجہ سے کم از کم اور نہایت ضروری سامان عام طور پر پہننے کے کچھ کپڑے اور ایک آدھ بستر لے جانے کی تاکید کی جاتی۔چونکہ اردگرد کے دیہات کے بے شمار پناہ گزین بھی جمع تھے اور وہ ٹرکوں میں سوار ہونے کے لئے بے تحاشہ یورش کر دیتے تھے اس لئے جن کو ٹکٹ دیئے جاتے ان کا سوار ہونا بہت مشکل ہو جاتا اور انتظامات میں بہت گڑ بڑ پیدا ہو جاتی۔اس کے علاوہ مسلح ملٹری کی دخل اندازی مشکلات کو انتہا تک پہنچا دیتی مگر باوجود اس کے حضرت امیر المومنین خلیفہ اسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ اور حضرت صاحبزادہ مرزا شریف احمد صاحب کے صاحبزادگان ہر قسم کی مشکلات پر غالب آنے اور خواتین کو سوار کرانے کے لئے بذات خود نہایت تندہی سے مصروف ہوتے