تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 11 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 11

11 اس طرح یہ نہایت مشکل کام سرانجام پاسکتا تھا لیکن جہاں دوسرے پہلوؤں سے ملٹری اور پولیس کا ظلم و تشد دبڑھتا گیا وہاں خواتین کی روانگی میں بھی ملٹری نے انتہائی مشکلات پیدا کرنی شروع کر دیں اور بات بات پر مداخلت کرنے اور جبر و ستم کا مظاہرہ کرنے پر تل گئی۔ایک دن جبکہ انتظام کے ماتحت ہمارے اپنے دس بارہ ٹرک احمدی عورتوں کو لے جانے کے لئے آئے ہوئے تھے ، عورتیں اور بچے ان میں سوار ہو چکے تھے کہ ملٹری نے حکم دے دیا کہ آدھے ٹرک فورا خالی کر دیئے جائیں ان پر ہم اپنی مرضی سے لوگوں کو سوار کرائیں گے۔اس پر جب صدائے احتجاج بلند کی گئی تو ہندو ملٹری نے سب لڑکوں پر قبضہ کر کے نہایت بیدردی اور سفاکی سے پردہ دار عورتوں اور چھوٹے چھوٹے بچوں کو گھسیٹ گھسیٹ کر پھینک دیا اور اس طرح ٹرک خالی کر کے لے گئی۔ملٹری کے اس طریق عمل سے نہ صرف سلسلہ کے انتظام کے ماتحت احمدی ملٹری افسروں کی حفاظت میں آئے ہوئے ٹرکوں میں سوار ہونے سے احمدی خواتین اور احمدی بچے رہ گئے بلکہ کئی ایک کو چوٹیں بھی آئیں اور تھوڑا بہت سامان جو ان کے ساتھ تھا وہ برباد ہو گیا۔پھر حکومت کی طرف سے تو اس قسم کے اعلانات کئے جارہے تھے کہ پناہ گزینوں کی تلاشی نہیں لی جاتی ہے۔سوائے اسلحہ کی تلاشی کے اور نہ ان سے کوئی اسباب چھینا جاتا ہے لیکن قادیان میں اس تنشد داور سختی سے ایک ایک بستر اور ایک ایک ٹرنک کھول کر دیکھا جاتا اور چھان بین کی جاتی کہ کوئی کام کی چیز باقی نہ رہ جاتی اور اس میں اتنی سرگرمی اور انہماک کا اظہار کیا جاتا کہ کئی بار تھوڑے تھوڑے ٹرکوں کو محض اس لئے رات بھر وہیں رکنا پڑا کہ ان کی تلاشی ختم نہ ہوسکی۔اس طرح عورتوں اور بچوں کو نہ صرف ساری رات کھلے میدان میں خوف وخطر کے اندر پڑے رہنا پڑا بلکہ کھانے پینے اور حوائج ضرور یہ پورا کرنے میں بھی انتہائی تکلیف اٹھانی پڑتی۔عورتیں اور بچے صبح کے ۴، ۵ بجے لڑکوں پر سوار ہونے کے لئے گھروں سے نکل کر مقررہ جگہوں پر جمع ہونے شروع ہو جاتے اور پناہ گزینوں کے بے پناہ ہجوم کی وجہ سے بڑی مشکلوں سے منتظمین جن میں زیادہ تر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے خاندان کے صاحبزادگان ہوتے سوار کراسکتے۔ابتدائی ایام میں دھوپ میں کافی حدت تھی۔جب عورتیں، بچے ٹرکوں میں کھچا کھچ بھر جاتے تو پھر ٹرک ملٹری کے احکام کی انتظار میں دھوپ میں کھڑے رہتے۔آخر خدا خدا کر کے چلتے تو تلاشی کی خاطر ریلوے لائن کے قریب کھلے میدان میں ان کو روک دیا جاتا۔پھر اس بری طرح ایک ایک چیز کو کھولا اور بکھیرا