تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 171 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 171

171 سیکرٹری لجنہ اماءاللہ مرکزیہ نے نمائندگان کو بتایا کہ مسجد ہالینڈ کا ابھی بارہ ہزار روپیہ قرضہ ان کے ذمہ باقی ہے لے اور دسمبر ۱۹۵۸ء تک ایک لاکھ اکتیس ہزار روپے مستورات ادا کر چکی تھیں۔اس بارہ ہزار روپے کے لئے لجنہ اماءاللہ کی کوشش جاری رہی اور جلد ہی یہ چندہ بفضل اللہ تعالیٰ ختم ہو گیا۔بہت سی بہنوں نے۔۱۵۰ روپے دے کر نام کندہ کرانے والی فہرست میں شمولیت کی جن میں سر فہرست محترمہ ز بیده بیگم صاحبہ اہلیہ محترم سیٹھ محمد صدیق صاحب بانی کلکتہ کا نام ہے جنہوں نے ایک ہزار روپیہ مسجد ہیگ کے لئے دیا۔لجنہ اماء اللہ مرکزیہ کی سالانہ رپورٹ ۵۹ - ۱۹۵۸ء سے معلوم ہوتا ہے کہ ۵۹۔۱۹۵۸ء میں مستوات نے -/ ۶۱۳۲ روپے چندہ دیا تھا۔گویا ستمبر ۱۹۵۹ء کے آخر تک مستورات کی طرف سے ۱۳۰، ۳۷، اروپے چندہ دیا تھا۔چھ ہزار روپیدان کے ذمہ بقایا تھا جو جلسہ سالانہ ۱۹۵۹ء تک پورا ہو گیا۔سے مستورات نے حضرت مصلح موعودؓ کے مطالبہ سے زائد یعنی ۱،۴۳،۶۶۴ روپے ادا کئے۔اور وہ مبارک تحریک جس کی بناء حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۵۰ء میں ڈالی تھی ۱۹۵۹ء میں پایہ تکمیل کو پہنچی۔محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب وکیل الا علیٰ والتبشیر تحریک جدید نے جلسہ سالانہ 19ء کے موقع پر ” جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام اور اس کے نتائج کے موضوع پر تقریر کرتے ہوئے مسجد ہالینڈ کا بھی ذکر کیا۔آپ نے فرمایا :۔پندرہ سال قبل ہالینڈ میں احمدیہ مسلم مشن کے ذریعہ اشاعت اسلام کی بنیا درکھی گئی۔اور یہ جماعت احمدیہ کی تبلیغی سرگرمیوں کا نتیجہ ہے کہ آج ہالینڈ میں ڈچ نومسلموں کی ایک جماعت قائم ہو چکی ہے۔اسی طرح ہالینڈ کے دارالحکومت ہیگ کی ایک وسیع شاہراہ پر ہلالِ اسلامی کا نشان لئے احمدیہ مسجد قائم ہے جو احمدی مستورات کے عزم اور قربانی کی گواہ ہے۔محترم صاحبزادہ مرزا مبارک احمد صاحب نے اپنی اس تقریر میں بعض اخباروں کے اقتباسات بھی پیش فرمائے جنہوں نے اس مسجد کا ذکر اور اس کے ذریعہ سے کی جانے والی خدمات کو سراہا۔ایک اخبار MAA,SNER BOER BUDE نے لکھا:۔کے مصباح فروری ۱۹۵۹ء صفحه ۳۷ ے رپورٹ سالانہ لجنہ اماءاللہ مرکز یه ۵۸-۱۹۵۷ء صفحه ۹ رپورٹ سالانہ لجنہ مرکز یہ ۶۰ - ۱۹۵۹ء صفحہ ۹ جماعت احمدیہ کا تبلیغی نظام صفحه ۴۱ ۴۲