تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 170
170 ہیں اور پھر مسجد لنڈن جو بنی تھی وہ بھی عورتوں کے چندہ سے ہی بنی تھی۔دراصل عورتوں نے برلن میں مسجد تعمیر کرنے کے لئے چندہ جمع کیا تھا۔میں نے اس چندہ کی تحریک کی تو عورتوں نے اپنے زیوراً تار اُتار کر یہ چندہ جمع کر دیا چنانچہ اس روپیہ سے مسجد برلن کے لئے زمین خریدی لی گئی لیکن حکومت کی طرف سے بعض کڑی شرائط لگا دی گئی تھیں جن کی وجہ سے ہم نے وہ زمین بیچ دی اور جو روپیہ ملا اس سے لنڈن میں مسجد تعمیر کر دی۔اس مسجد پر قریباً ڈیڑھ لاکھ روپیہ خرچ آیا تھا۔۔۔میں نے وکالت مال کے شعبہ بیرون کے انچارج چوہدری شبیر احمد صاحب کو بلایا اور ان سے دریافت کیا کہ کیا آپ کے پاس کوئی ایسا ریکارڈ ہے جس سے معلوم ہو کہ جب ہیگ سے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپے کا تخمینہ آیا تھا تو میں نے عورتوں سے اس قدر چندہ کرنے کی اجازت دی ہو کیونکہ عورتوں کا حق تھا کہ چندہ لینے سے پہلے اُن سے پوچھ لیا جاتا کہ کیا وہ یہ چندہ دے سکتی ہیں یا نہیں۔انہوں نے کہا افسوس ہے کہ اُس وقت ہم سے غلطی ہوئی اور ہم نے حضور سے دریافت نہ کیا کہ آیا مزید رقم بھی عورتوں سے جمع کی جائے یا نہ کی جائے۔ہمارے پاس کوئی ایسا ریکارڈ نہیں جس کی رُو سے زیادہ رقم اکٹھا کرنے کی منظوری لی گئی ہو۔میں نے کہا میں یہ مان لیتا ہوں کہ آپ نے ایک لاکھ چونتیس ہزار روپیہ جمع کرنے کی منظوری مجھ سے نہ لی لیکن جب وہ رقم ایک لاکھ پچھتر ہزار بن گئی تو پھر آپ نے مجھ سے منظوری لینی تھی کیا آپ نے مجھ سے منظوری لی۔اُنہوں نے پھر یہی جواب دیا کہ ہم نے اس کے متعلق بھی حضور سے کوئی منظوری نہیں لی اور ہمارے پاس کوئی ایسا کاغذ نہیں جس میں یہ لکھا ہو کہ عورتوں سے ایک لاکھ چونتیس ہزار یا ایک لاکھ پچھتر ہزار روپیہ جمع کرنا منظور ہے اس لئے میں یہ فیصلہ کرتا ہوں کہ لجنہ اماءاللہ اس سال صرف چھتیس ہزار روپیہ چندہ جمع کر کے تحریک جدید کو دے دے اور باقی روپیہ تحریک جدید خود ادا کرے۔لجنہ اماءاللہ چھتیس ہزار روپیہ سے زیادہ نہیں دے گی اور مسجد ہالینڈ ہمیشہ کے لئے عورتوں کے نام پر ہی رہے گی۔حضرت مصلح موعودؓ کے اس فیصلہ کے بعد کہ اب لجنہ اماءاللہ نے صرف - ۳۶۰۰۰ مسجد کے لئے ادا کرنا ہے۔لجنہ اماء اللہ کی کوشش اس سلسلہ میں جاری رہی اور ایک سال گزرنے کے بعد ۲۷۔دسمبر ۱۹۵۸ء کو لجنہ اماء اللہ کی بارھویں شوریٰ میں حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا جنرل الفضل ۲۳ فروری ۱۹۵۸ء صفحه ۳-۴