تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 156
156 ثبوت دیا ہے۔گو ان کی تحریک بھی چھوٹی تھی۔عورت کی آمدن ہمارے ملک میں کوئی ہوتی ہی نہیں۔اگر اسلامی قانون کو دیکھا جائے تو عورت کی آمد مرد سے آدھی ہونی چاہیئے کیونکہ شریعت نے عورت کے لئے آدھا حصہ مقرر کیا ہے اور مرد کے لئے پورا حصہ۔پس اگر مردوں نے چالیس ہزار روپیہ دیا تھا تو چاہیئے تھا کہ عورتیں ہیں ہزار روپیہ دیتیں۔مگر واقعہ یہ ہے کہ اگر مردوں نے ایک روپیہ چندہ دیا ہے تو عورتوں نے سواروپیہ کے قریب دیا ہے۔انہوں نے زمین کی قیمت ادا کر دی ہے اور ابھی چھ سات ہزار روپیہ ان کا جمع ہے جس میں اور روپیہ ڈال کر ہالینڈ کی مسجد بنے گی۔پھر یہ چندہ انہوں نے ایسے وقت میں دیا ہے جبکہ لجنہ کا دفتر بنانے کے لئے بھی انہوں نے چودہ پندرہ ہزار روپیہ جمع کیا تھا۔اس سے یہ نتیجہ نکتا ہے کہ جتنا جتنا کسی کے پاس روپیہ کم ہوتا ہے اتنا ہی اس کا حوصلہ زیادہ ہوتا ہے۔مردوں کے پاس چونکہ روپیہ زیادہ ہوتا ہے اس لئے ان کا حوصلہ کم ہوتا ہے۔لیکن عورتوں کے پاس چونکہ روپیہ کم ہوتا ہے اس لئے وہ کہتی ہیں کہ روپیہ تو یوں بھی ہمارے پاس ہے نہیں چلو جو کچھ ملتا ہے وہ خدا تعالیٰ کے رستہ میں ہی قربان کر کے اس کی رضا حاصل کریں۔مگر جس کے پاس روپیہ ہوتا ہے وہ کہتا ہے میرا افلاں کام بھی پڑا ہے اس کے لئے مجھے دس روپے چاہئیں۔فلاں کام پڑا ہے اس کے لئے ہیں روپے چاہئیں۔غرض ہمارا تجربہ ہمیشہ یہی بتاتا ہے کہ عورت اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرتی ہے اور مرد اپنی توفیق اور ہمت سے کم قربانی کرتا ہے۔بے شک ایسے مرد بھی موجود ہیں جو اپنی توفیق اور ہمت سے بہت زیادہ قربانی کرنے والے ہیں۔لیکن اگر اکثریت کو دیکھا جائے تو عورت کا پلہ بھاری نظر آتا ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی جب خاص قربانی کی ضرورت ہوا کرتی تھی تو آپ عورتوں سے ہی اپیل کیا کرتے تھے کیونکہ آپ سمجھتے تھے کہ عورت جذباتی ہوتی ہے جب قربانی کرنے پر آجائے تو وہ غیر معمولی طور پر قربانی کر جاتی ہے۔ایک دفعہ رسول کریم صلے اللہ علیہ والہ وسلم کو کچھ ضرورت پیش آئی تو آپ نے عید کی نماز کے بعد عورتوں میں تحریک کی اور انہوں نے اپنے زیوراتار کر چندہ میں دینے شروع کر دیئے۔یوں تو عورت کو سب سے زیادہ زیور ہی پسند ہوتے ہیں کیونکہ وہی اس کی جائیداد ہوتے ہیں۔لیکن جب اسے جوش آجائے تو پھر وہ اسی زیور کو جو اُ سے محبوب ہوتا ہے اُتار کر پھینک دیتی ہے۔عورتوں نے اس طرح کیا اور زیور اتار اُتار کر دینے شروع کر دیئے۔مگر چونکہ اکثر غریب عورتیں تھیں اس لئے ان کے پاس کم قیمت زیور تھے۔کسی نے چھلہ دے دیا کسی نے مُر کی دیدی اور کسی نے اسی قسم کی کوئی اور چیز دے دی۔