تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 155 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 155

155 فرماتے ہوئے جہاں مردوں کو مسجد واشنگٹن کے چندہ کی طرف توجہ دلائی وہاں مستورات کو مسجد ہالینڈ کے چندہ کی طرف توجہ دلاتے ہوئے فرمایا:۔”میں نے چند ماہ ہوئے مسجد واشنگٹن اور مسجد بیگ کی تحریک کی تھی۔جب میں نے مسجد لنڈن کی تحریک کی تھی اس وقت جماعت کی تعداد موجودہ تعداد سے دس گنا کم تھی اور میں نے چندہ کی عورتوں میں تحریک کی تھی جن کی آمد بالعموم مردوں سے نصف ہوتی ہے پھر بھی انہوں نے ساٹھ ستر ہزار روپیہ چندہ دے دیا تھا۔اب جبکہ ہماری تعداد دس گنا زیادہ ہوگئی ہے ہم ان نیک کاموں میں سستی کیوں دکھائیں۔ہمیں ہرا ہم جگہ پر ہی نہیں ہر جگہ پر مسجدیں بنانا ہوں گی تاہم ان لوگوں کو جو ہمیں مسلمان نہیں سمجھتے یہ بتاسکیں کہ کیا یہ کام غیر مسلمانوں کے ہیں۔اس چندہ میں صرف پاکستان کی خواتین نے ہی حصہ نہ لیا بلکہ ہر ملک کی احمدی خواتین نے اپنی استطاعت کے مطابق اس میں حصہ لیا۔مثلاً محترم چوہدری مشتاق احمد صاحب باجوہ نے جلسہ سالانہ ۱۹۵۰ء کے موقع پر ۲۶۔دسمبر کو اپنی تقریر میں انگلستان کے مشن کے حالات سُناتے ہوئے فرمایا کہ ہیگ اور واشنگٹن کی مساجد کے لئے تو ایک انگریز احمدی خاتون نے ہی ایک سو پاؤنڈ چندہ دے دیا ہے احمدی خواتین بیرون پاکستان میں سے انگلستان کے علاوہ بور نیو۔طہورا۔نیروبی کولمبو۔شام۔کستموں۔امریکہ۔ہالینڈ۔ماریشس۔تہران۔کماسی۔ممباسہ۔ٹانگا نیکا۔غانا۔دارالسلام۔کویت۔سعودی عرب۔بحرین۔نائیجیریا۔عدن۔مسقط۔دمشق اور ہندوستان کی رہنے والی خواتین نے اس مسجد کے چندہ میں حصہ لیا۔جلسہ سالانہ ۱۹۵۰ء کے بعد اس چندہ کی طرف خصوصی توجہ دی گئی۔چنانچہ ایک ماہ میں ہی دو ہزار روپیہ چندہ وصول ہوا اور فروری ۱۹۵۱ ء تک مسجد کا کل چندہ بتیس ہزار روپیہ جمع ہو چکا تھا۔سے اس زمانہ میں ممبرات لجنہ اماءاللہ پر ربوہ میں اپنے دفتر کی تعمیر کے سلسلہ میں بھی کافی مالی بوجھ تھا اس کے باوجود لجنہ اماءاللہ نے مسجد ہالینڈ کے چندہ کو جلد از جلد جمع کرنے کی پوری کوشش کی جس کا اظہار خود حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۴۔دسمبر ۱۹۵۱ء کے خطبہ جمعہ میں یوں فرمایا:۔ہالینڈ کی مسجد کے متعلق عورتوں میں تحریک کی گئی تھی۔انہوں نے مردوں سے زیادہ قربانی کا ل الازهار لذوات الخمار حصہ دوم صفحہ ۱۰۰ والفضل ۲۔جنوری ۱۹۵۱ صفحه ۳ ۲ الفضل ۲۔جنوری ۱۹۵۱ء صفحه ۲ الفضل ۳۔فروری ۱۹۵۱ء