تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 6 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 6

6 خراب کر دیا تو حضور نے اولاً یہ ہدایت فرمائی کہ صرف عورتوں اور بچوں کو نکال لیا جائے مگر بعد میں جب مردوں کا وہاں رہنا بھی ممکن نہ رہا تو پھر حضور نے چند سو اشخاص کے سوا جنہیں مقامات مقدسہ کی حفاظت کے لئے بہر حال وہاں ٹھہر نا تھا باقی سب کو بحفاظت پاکستان میں منتقل کرنے کا انتظام فرمایا چنانچہ الفضل میں یہ اطلاع شائع ہوئی کہ:۔نہ صرف احمدیوں کو بلکہ تمام مسلمانوں کو ہر طرح کی امداد دی جارہی ہے۔قادیان سے عورتوں بچوں اور کمزور نا تواں مردوں کو پاکستانی علاقہ میں منتقل کرنے کے لئے پوری جد و جہد ہورہی ہے۔اس مضمون میں یہ بھی بتایا گیا کہ:۔یہ کام حضرت امیر المومنین امید اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز کی خاص نگرانی میں دن رات کی لگاتار محنت سے کیا جا رہا ہے۔حضور کو جس قدر اس کام کی فکر ہے۔اور جس قدر توجہ حضور اس طرف دے رہے ہیں شاید دنیا کا کوئی بڑے سے بڑا لیڈر بھی خطرات میں اپنی قوم کے لئے ایسا نہیں کرتا ہے قادیان سے احمدی بچوں اور مستورات کے انخلاء کی جدوجہد ے ستمبر ۱۹۴۷ء کو منعقدہ مجلس مشاورت میں یہ طے پایا کہ قادیان سے احمدی بچوں اور عورتوں کو پاکستان پہنچانے کا فوری بندو بست کیا جائے۔۱۲۔ستمبر ۱۹۴۷ء کے خطبہ جمعہ میں حضرت مصلح موعود نے بھی اس کی طرف توجہ دلاتے ہوئے یہ تحریک فرمائی کہ ہمیں کم از کم دوسوٹرکوں کی اس سلسلے میں فوری ضرورت ہے حضور نے اس خطبہ میں قادیان کے حالات کا ذکر بھی فرمایا جس سے پتہ لگ سکتا ہے کہ اس وقت قادیان میں عورتوں اور بچوں کی کیا حالت تھی۔حضور نے فرمایا:۔,, وہاں آٹھ نو ہزار عورتیں اور بچے ہیں جو نکالنے کے قابل ہیں ورنہ غذا کی حالت ، اور حفاظت کے انتظامات میں سخت دقتیں پیدا ہو جائیں گی۔وہاں کی غذائی حالت خراب ہے۔نمک مرچ سب ختم ہو چکا ہے۔گو میں نے یہاں سے انتظام کر کے یہ چیزیں وہاں کچھ بھجوائی ہیں مگر پھر بھی وہاں کی غذائی حالت تشویشناک ہے۔آٹے کا انتظام نہیں ہو سکتا۔گھی ختم ہے۔لکڑی ختم ہے اس لئے عورتوں اور بچوں کو قادیان سے نکالنا قادیان کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔پس جس جس دوست کی طاقت میں ہو اور وہ ٹرک کا انتظام کر سکتے ہیں۔انہیں چاہیے کہ وہ ٹرکوں کا نتظام کر کے میاں بشیر احمد صاحب کو ملیں ا روزنامه الفضل ۱۹۔ستمبر ۱۹۴۷۔صفحہ کالم ۳-۴ الفضل ۹ ستمبر ۱۹۴۷ء ا کالم ۲ تا ۴