تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 128 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 128

128 ہے۔کام کرنے والے لوگ تو وقت پر آجاتے ہیں مگر گھنٹہ بھر انہیں انتظار کرنا پڑتا ہے۔اس طرح ان کا دوسروں سے زیادہ وقت ضائع ہوتا ہے۔‘“ تقریر کو جاری رکھتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ انسانی زندگی کے دو پہلو ہوتے ہیں ایک غذائی پہلو اور دوسرا فعّالی پہلو ہے۔غذائی پہلو میں انسان غذا سے طاقت حاصل کرتا ہے اور فعالی پہلو سے حاصل کی ہوئی طاقت کو استعمال کرتا ہے۔یہی حالت دین کی ہے۔اس میں بھی ایک حصہ غذائی ہے جس میں نماز ، روزہ اور زکوۃ وغیرہ شامل ہے اور دوسرا فعّالی۔اس کے متعلق حضور نے ارشاد فرمایا: ” پس ایک نصیحت میں تمہیں یہ کروں گا کہ تم رُوح کی غذائی حالت کو بہتر بناؤ۔جس طرح تم چاہتی ہو کہ تمہارا جسم زندہ رہے۔تم بیمار اور کمزور ہو جاتی ہو تو دوائیں کھاتی ہو۔یخنی پیتی ہو، مقویات استعمال کرتی ہو۔یا اگر کسی کا جگر خراب ہو تو وہ سبزیوں کا استعمال زیادہ کرتی ہے۔اسی طرح اگر تمہاری روح کمزور ہے تو اس کی تقویت کا انتظام کرو۔اگر صرف نماز سے سرور نہیں ہوتا تو ذکر الہی کرو۔اگر صرف زکوۃ سے سرور پیدا نہیں ہوتا تو صدقہ خیرات کرو۔پیٹ بھرنے کا آخر یہی قاعدہ ہے اگر دس لقموں سے پیٹ نہیں بھرتا تو پانچ لکھے اور کھاؤ۔یہی روح کا حال ہے۔اگر صدقہ سے رُوح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو اور صدقہ دو۔اگر پانچ نمازوں سے روح میں تازگی پیدا نہیں ہوتی تو چھ نمازیں پڑھو۔اور اگر پھر بھی تازگی پیدا نہیں ہوتی تو سات نمازیں پڑھو نماز چھوڑ دینے سے روح تازہ نہیں ہوتی بلکہ نمازیں زیادہ پڑھنے سے رُوح میں تازگی پیدا ہوتی ہے۔یہ روح کا ایک غذائی پہلو ہے جس کی طرف میں تمہیں توجہ دلاتا ہوں۔انسانی زندگی کا دوسرا پہلو فعالی ہے۔انسان جو غذا کھاتا ہے اس سے جسم میں طاقت پیدا ہوتی ہے اور وہ کام کرتا ہے۔اگر کوئی شخص کھانا کھانے کے بعد بستر پر لیٹ رہے اور کوئی کام نہ کرے تو دیکھنے والے یہی کہیں گے کہ اس میں اپنے جسم سے صحیح کام لینے کا مادہ نہیں۔اسی طرح یہ روحانی غذائیں ہیں۔ان سے طاقت حاصل کر لینے کے بعد انسان کو اور کام بھی کرنا پڑتا ہے۔جو شخص نماز پڑھکر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا۔یا روزے رکھ کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا ہے۔یا صدقہ خیرات دے کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ میں نے اپنا کام کر لیا وہ ایسا ہی بیوقوف ہے جس طرح وہ شخص ہے جو کہے کی میں نے روٹی کھالی۔پانی پی لیا تو زندگی کا کام پورا کر لیا۔کھانا پینا زندگی کے کام نہیں بلکہ اسے کام کے قابل بنانے کے لئے غذائیں ہیں۔اسی طرح یہ روحانی کام بھی انسانی زندگی کا مقصود نہیں ، نہ جسمانی زندگی کا مقصود کھانا پینا ہے اور نہ روحانی زندگی کا مقصود نماز ، روزہ وغیرہ ہے۔یہ دونوں سہارے ہیں ایک جسم کے