تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 110
110 انسان کے پاس دولت ہوتی ہے اس کے دماغ میں غرور ہوتا ہے اور وہ دوسرے کی بات کو حقارت کے ساتھ رڈ کر دیتا ہے۔مکہ والوں کے دماغ میں بھی یہی غرور تھا جس کی وجہ سے انہوں نے نقصان اُٹھایا۔تم بھی کہو گے کہ ہماری حکومت دائمی ہے لیکن میں دیکھتا ہوں اور خدائی آنکھوں سے دیکھ رہا ہوں کہ تم میں سے وہ جن کی اصلاح نہیں ہوگی وہ ذلیل کئے جائیں گے، وہ تباہ اور برباد کئے جائیں گے۔پس جاؤ اور اپنے مردوں اور بچوں کی اصلاح کرو۔جاؤ اور ان میں قربانی کا مادہ پیدا کرو۔اگر نہیں کرو گی تو تم اس کا عبرت ناک انجام دیکھو گی۔اولا دیں اس لئے ہوا کرتی ہیں کہ سکھ کا موجب بنیں۔مگر ایسی اولادیں سکھ کا موجب نہیں بلکہ ذلت کا موجب ہوں گی خاندان کی ترقی کا موجب نہیں بلکہ تنزلی کا موجب ہوں گی۔صحابیات کا نمونہ سامنے رکھو: پس اپنی اصلاح کرو اور صحابیات کا نمونہ اپنے سامنے رکھو۔اگر تمہارے خاوند اور بیٹے اور بھائی اور دوسرے رشتہ دار خدا تعالی کی راہ میں مارے گئے تو وہ ابدی زندگی پائیں گے۔اور اگر جی چُرائیں گے تو جیسا کہ میں نے بتایا ذلّت تمہارے ساتھ کھڑی ہے اور وہ بہر حال تمہیں قبول کرنی پڑے گی۔لیکن اس وقت اللہ تعالیٰ نے تمہاری ذلت کو دور کرنے کا سامان پیدا کر دیا ہے۔دوسروں نے وہ روحانی لذت حاصل نہیں کی جو تم نے حاصل کی ہے۔تم نے خدا تعالی کے تازہ بتازہ معجزات دیکھے ہیں تم نے خدا تعالی کے کئی نشانات اپنی آنکھوں سے دیکھے ہیں۔تم نے خدا تعالی کی آیات بینات کا مشاہدہ کیا ہے۔اگر اس کے بعد بھی تم نے اپنی اصلاح نہ کی اور تم نے اولادوں کو گرتے دیکھا تو یہ تمہاری قسمت۔لیکن اگر تم اپنے خاوندوں ، اپنے باپوں ، اپنے بھائیوں اور اپنے بیٹوں کی اصلاح کر لو تو یقینا تم بھی وہی ثواب پاؤ گی جو وہ پائیں گے۔تم حفاظت ملک کی لڑائی میں خود نہیں جاؤ گی جائے گا تمہارا باپ یا تمہارا خاوند جائے گایا تمہارا بھائی جائے گا۔لیکن تمہاری تعلیم کے ماتحت جو تمہارے بیٹے بہادری دکھلائیں گے، جو تمہارے بھائی بہادری دکھلائیں گے، جو تمہارے باپ بہادری دکھلائیں گے، جو تمہارے خاوند بہادری دکھلائیں گے ان کو جو کچھ ثواب ملے گا اتنا ہی ثواب خدا تعالیٰ کی درگاہ میں تمہاری نسبت بھی لکھا جائے گا۔رسول کریم صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں اَلدَّالُ عَلَى الخَیرِ كَفَا عِلِہ جو شخص کسی دوسرے کو نیکی کی تحریک کرتا ہے اسے اتنا ہی ثواب ملتا ہے جتنا خود نیکی کرنے والے کوملتا ہے جو شخص جہاد کے لئے جاتا یا ملک کی