تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 104
104 حضور نے اس موقع پر دیگر نصائح کے علاوہ یہ بھی ہدایات دیں کہ:۔عورتیں پہاڑوں پر نہ چڑھیں۔دارالخواتین میں کسی مرد کو آنے کی اجازت نہیں ہوگی۔اگر کسی عورت نے کہیں جانا ہو تو دفتر سے اجازت لے کر جائے۔“ عاجزہ نے حضور کا ارشاد کر سر تسلیم خم کیا اور فور الا ہور جانے کے لئے تیار ہو گئی دو چار روز کے بعد واپس آگئی۔اسی دوران نصرت گرلز سکول بھی ربوہ میں گھل گیا اس کے لئے بھی ضروری سامان مہیا کیا گیا اور حضور کی عمومی ہدایات کو سامنے رکھ کر اور اللہ تعالی پر توکل کرتے ہوئے کام شروع کر دیا۔کئی طرح کی مشکلات کا سامنا تھا جگہ کی تنگی وغیرہ تھی مگر اللہ تعالے غیر معمولی رنگ میں مدد کرتا رہا۔اسی دوران محترم مولانا جلال الدین صاحب شمس پہلے امیر تھے پھر محترم سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب امیر مقرر ہوئے۔محترم شاہ صاحب مجھے کام کرتا دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ہمت اور استقلال سے کام کرنے اور مشکلات کی پرواہ نہ کرنے کی تاکید فرمائی اور فرمایا میں ساری عمر مشکلات کے باوجود کام کرتا رہا ہوں جو لوگ خدا کی راہ میں کام کریں وہ مشکلات کی پرواہ نہیں کرتے۔حضرت شاہ صاحب کا یہ مشفقانہ سلوک اور قیمتی نصائح میرے بہت کام آئیں۔پھر خاندان حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مبارک اور بزرگ خواتین کی تشریف آوری پر مجھے ان کی راہنمائی بھی حاصل ہوگئی۔خاندان حضرت مسیح موعود میں سے سب سے پہلے محترمہ سیدہ بیگم صاحبہ محترم صاحبزادہ مرزا منور احمد صاحب ربوہ تشریف لائیں پھر حضرت ممانی جان ( حضرت سیدہ اُمم داؤ د صاحبہ ) نائب صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ اور محترمہ آپا نصیرہ صاحبہ بیگم حضرت صاحبزادہ مرزا عزیز احمد صاحب بھی تشریف لے آئیں۔ان کے بعد حضرت خلیفتہ المسیح الثانی مع اہل و عیال مستقل رہائش کے لئے تشریف لائے۔عاجزہ تین سال تک اپنی والدہ محترمہ ( آمنہ بیگم صاحبہ ) کے خاص تعاون سے حضرت سیدہ اُمم داؤ د صاحبہ اور حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہا کی نگرانی میں یہ خدمت انجام دیتی رہی اس کے بعد مندرجہ ذیل محترمات کو بطور نگران کام کرنے کا موقع ملا:۔ا۔محترمہ بھا بھی زینب صاحبہ ۲۔محترمہ استانی مریم بیگم صاحبہ اہلیہ حضرت حافظ روشن علی صاحب محترمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ -۴- حضرت سیدہ مہر آیا صاحبہ مدظلها - ۵ محترمہ سیدہ تنویر الاسلام صاحبہ بیگم محترم صاحبزادہ مرزا حفیظ احمد صاحب - محترمہ ثریا بیگم صاحبہ اہلیہ محترم حکیم فضل الرحمن صاحب محترمه خدیجه بیگم صاحبہ اہلیہ محترم مولوی فضل دین صاحب وکیل -۸- محترمہ صفیہ ثاقب اہلیہ محترم