تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 103
103 لا کر جملہ انتظامات کو ملاحظہ فرماتے رہے۔اس کے علاوہ بھی بار بار کھانے اور پانی وغیرہ کے متعلق دریافت فرماتے رہے تا کہ مستورات کو کسی قسم کی کوئی دقت نہ ہو۔کچھ دنوں کے بعد حضور وا پس لا ہور تشریف لے گئے۔ربوہ میں مستورات کی رہائش اور ان کا تربیتی نظام: اپریل ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ کے بعد حضرت خلیفہ مسیح الثانی رضی اللہ تعالی عنہ کی ہدایت پر دار الخواتین قائم کیا گیا جو کچے ۲۴ کمروں اور وسیع صحن پر مشتمل تھا اس میں درویشان قادیان کے اہل و عیال کو منتقل کر دیا گیا۔یہ انتظام ۱۹۵۴ء تک قائم رہا جب تک کہ پختہ مکان تعمیر ہو کر ان کو ان میں منتقل نہ کر دیا گیا۔اور کچھ نے اپنے مکان بنوالئے اور وہ ان میں چلی گئیں۔اس میں رہنے والی خواتین کے لئے کام بھی مہیا کیا گیا تھا تا وہ بیکا رنہ رہیں۔چنانچہ چرنے اور روئی منگوا کر دی گئی۔اور اس کا منافع شعبۂ حفاظت مرکز میں دیا جاتا تھا۔دار الخواتین کا انتظام : رتن باغ لاہور میں مستورات کے کھانے اور ان کی رہائش کا انتظام حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مدظلہ العالی کی زیر نگرانی کم و بیش ایک سال سات ماہ تک عاجزہ کے سپر در ہا۔عورتوں میں کھانے کی تقسیم اور ان کی رہائش خاصا مشکل اور کٹھن کام تھا اس لئے ربوہ آکر میں اس کام سے فرصت چاہتی تھی۔لیکن جلسہ کے دو دن کے بعد جبکہ حضور واپس تشریف لے جارہے تھے مجھے پیغام ملا کہ حضور مجھے یاد فرماتے ہیں۔میں حاضرِ خدمت ہوئی۔حضور اپنے کمرہ میں تشریف فرما تھے اور باہر حضرت مولانا جلال الدین صاحب شمس گکھڑے تھے۔میرے پہنچنے پر حضور نے مکرم شمس صاحب کو مخاطب کر کے فرمایا:۔”یہاں (ربوہ میں ) امتہ اللطیف دارالخواتین کی منتظم ہوگی۔یہ اب میرے ساتھ لاہور جارہی ہے وہاں پر مستورات کی رہائش گاہ کا نقشہ تیار کرے گی اور چرنے لائے گی تاکہ عورتیں فارغ وقت میں چرنے کا تیں۔اس کی عدم موجودگی میں اس کی والدہ (اہلیہ میاں عبد الرحیم صاحب درویش قادیان ) نگران ہوں گی۔“