تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 102
102 اگر کوئی عورت کرایہ کا اعتراض کرے تو ہم اس کو کرایہ دے دیں گے۔خاکسار مریم صدیقہ جنرل سیکرٹری لجنہ اماءاللہ روانگی سے ایک ہفتہ پہلے سب کو اس فیصلہ سے مطلع کر دیا گیا۔لسٹیں تیار کی گئیں اور تیار رہنے کی ہدایت کی گئی۔صدرانجمن احمدیہ کے بعض کارکنوں اور منتظمین کے اہل وعیال اس سے پہلے ہی ربوہ پہنچ چکے تھے۔۱۲۔اپریل ۱۹۴۹ء کو روانگی تھی اس دن دو پہر کے وقت سب مستورات اپنے بچوں اور سامان سمیت رتن باغ کے بڑے گیٹ کی طرف باغ میں جمع ہو گئیں۔عاجزہ فہرست کے مطابق نام پڑھتی جاتی تھی اور مکرم میر داؤد احمد صاحب جو کہ امیر قافلہ تھے کی نگرانی میں خدام انہیں تانگوں میں سوار کرا کے سٹیشن کو روانہ کر دیتے تھے جبکہ حضور او پر برآمدہ میں کھڑے ہو کر عمومی نگرانی فرما رہے تھے۔سٹیشن پر بھی خدام انہیں سوار کرانے اور ان کی ہر ممکن مدد کے لئے موجود تھے۔گاڑی کی تین بوگیوں میں جو ریز و تھیں انہیں سوار کرایا گیا۔حضرت سیدہ ام داؤد صاحبہ باوجود کمزور صحت کے ریل کے ذریعہ مستورات کے ہمراہ ہی تشریف لائیں۔جب گاڑی ربوہ پہنچی تو رات کی تاریکی چھا چکی تھی۔حضرت مصلح موعود جنہوں نے رتن باغ لاہور میں ہمیں الوداع کیا تھا بنفس نفیس سٹیشن پر موجود تھے۔حضور لاہور سے بذریعہ کار ہماری آمد سے پہلے ربوہ پہنچ چکے تھے۔حضرت سیّدہ ام داؤد صاحبہ بھی موجود تھیں۔ایک لائن میں خدام کھڑے تھے جنہوں نے سب مستورات کا سامان اُتارا۔مستورات کی فہرست ( جو میرے پاس تھی) کے مطابق حضور ایک ایک عورت کا نام خود دریافت فرماتے۔دو خدام سامان اُٹھانے کے لئے اُس کے ہمراہ کرتے۔اس عورت کو خدام کا نام اور خدام کو عورت کا نام بتاتے تھے اور پھر انہیں ان بیر کوں میں ٹھہرانے کے لئے بھجوا دیتے تھے جو جلسہ سالانہ کے لئے تیار کی گئی تھیں۔خدام کو یہ ہدایت تھی کہ وہ عورتوں کو ان کے جائے قیام تک پہنچا کر واپس آئیں اور حضور کو یہ اطلاع دیں کہ عورتیں مع سامان جائے قیام پر پہنچا دی گئی ہیں۔اس طرح حضور نے اپنی ذاتی نگرانی میں احتیاط کے ساتھ سب مستورات اور بچوں کو ان کے سامان کے ساتھ لاہور سے ربوہ منتقل فرمایا۔حضور قریباً ایک ہفتہ ربوہ میں تشریف فرما ر ہے۔اس دوران خود عورتوں کی قیام گاہ میں تشریف