تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 92
92 92 اس واقعہ سے نہ صرف اُس وقت کے احمدیوں کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے بلکہ ان کی دینی محبت اور لگاؤ کا اظہار بھی بخوبی ہو جاتا ہے۔جمعہ تو ایک شاندار اور پُر وقار تقریب ہے مگر غریب لوگ باوجود اس میں شرکت کی شدید خواہش کے اپنی غربت کی وجہ سے نہ آسکتے تھے کیونکہ انہیں اپنی حالت پر شرم محسوس ہوتی تھی۔تاہم انہیں سالوں کے دوران بعض بہت ہی مخلص ، بہت ہی مستقل مزاج اور بے حد وفا دار بہنوں کو اسلام کی حقیقی روح کو سمجھنے اور حاصل کرنے کی توفیق حاصل ہوئی۔نیز انہوں نے بہت سی خوبصورت چیزیں اپنے ہاتھوں سے بنائیں۔غالبا ۳۶ - ۱۹۳۵ء میں محترم صوفی مطیع الرحمن صاحب بنگالی مبلغ امریکہ نے علیہ محمد صاحبہ پٹس برگ (پا) کو لجنہ اماءاللہ امریکہ کی پہلی مقامی صدر مقرر کیا اور اسی وقت اس تنظیم کو لجنہ اماءاللہ کے نام سے موسوم کیا گیا۔محترم بنگالی صاحب نے امریکہ کے وسطی مغربی حصہ میں لجنہ کی شاخیں قائم کیں۔علیہ علی صاحبہ جنہوں نے امریکہ میں پہلے مبلغ اسلام حضرت ڈاکٹر مفتی محمد صادق صاحب کے ذریعے اسلام قبول کیا بتاتی ہیں کہ اُس وقت لجنہ کا اصل اور سب سے ضروری مقصد احمدی عورتوں کو پردہ کروانا تھا۔بہنوں کے ہاتھ کی بنی ہوئی چیزیں بیچی جاتی تھیں تا کہ مشن کو مالی طور پر کام کے قابل رکھا جائے۔مالی تنگی کے باوجود احمدیوں کو قرآن کریم سیکھنے کے لئے فیس ادا کرنا پڑتی تھی اور ایک سبق کے لئے ۲۵ سینٹ جو ان دنوں ایک کھانے کے خرچ کے برابر تھا دینے پڑتے تھے اور بہنیں فیس ادا کرنے لئے کوششیں جاری رکھتیں۔مقامی لجنات اُن بہنوں کی مالی مدد کرتیں جو قرآن کریم سیکھنا چاہتی تھیں مگر فیس ادا کرنے کی استقامت نہ رکھتیں تھیں۔۱۹۴۶ء میں محترم مرزا منور احمد صاحب مبلغ امریکہ کو مرکز سے یہ ہدایت موصول ہوئی کہ تمام مقامی مشن ہاؤسز میں لجنہ اماءاللہ قائم کی جائے۔امریکہ کی لجنات میں سے پٹس برگ کی لجنہ پہلی بجنہ تھی جسے ربوہ میں لجنہ اماءاللہ مرکزیہ سے براہ راست ہدایات موصول ہوئیں۔خواتین کو یہ نصیحت کی گئی کہ وہ مبلغوں کی اطاعت کریں اور اسلامی تعلیم سیکھیں نیز یہ کہ وہ اپنے اپنے حلقہ اور جگہ پر اسلام کی تبلیغ کریں اور چندہ جات با قاعدہ ادا کریں اور اپنی سرگرمیوں کی باقاعدہ رپورٹیں لجنہ مرکز یہ کو بھجوائیں۔۱۹۴۹ء میں لجنہ مرکزیہ کی جنرل سیکرٹری کی طرف سے رسالہ الوصیّت موصول ہو ا تا کہ اسے