تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 72
72 جواب از حضور رضی اللہ تعالی عنہ : سادہ زندگی ایک نسبتی لفظ ہے یہی وجہ ہے کہ ہم سادہ زندگی کی کوئی ایک تعریف نہیں کر سکتے۔جنہیں اللہ تعالی نے مال و دولت کی فراخی عطا کی ہے ان کے لئے سادہ زندگی کا معیار اور ہوگا اور دوسروں کے لئے اور جہاں تک ایک کھانا کھانے کا تعلق ہے ہمارے گھرانوں میں اس کی پابندی کی جاتی ہے سوائے بیماروں کے کہ ان کے لئے مجبوراً الگ کھانا تیار کرانا پڑتا ہے۔چونکہ سب کھانے ایک ہی جگہ تیار ہوتے ہیں اس لئے دیکھنے والے کو غلط فہمی ہو سکتی ہے۔حالانکہ وہ الگ الگ گھرانوں کے ہوتے ہیں۔پھر لباس کا سوال ہے۔میں اپنی بیویوں کو جو ماہوار خرچ دیتا ہوں وہ اتنا کم ہے کہ چندے وغیرہ دے کر بمشکل اس میں ماہوار خرج پورے ہو سکتے ہیں اس لئے وہ لباس میں اسراف کر ہی نہیں سکتیں۔دراصل بات یہ ہے کہ بعض عورتیں اچھا انتظام کرنا جانتی ہیں وہ سلیقہ شعاری کے ساتھ تھوڑی رقم میں عمدگی سے گزارا کر لیتی ہیں۔جو عورتیں اچھا انتظام کرنا نہیں جانتیں وہ زیادہ رقم لے کر بھی اچھا انتظام نہیں کر سکتیں۔جہاں تک گوٹہ کناری کے استعمال کا سوال ہے ہماری والدہ حضرت اُم المومنین رضی اللہ تعالیٰ عنہا دہلی کی ہیں اور دہلی کی عورتیں گوٹہ کناری کے کپڑوں کو نسل در نسل سنبھال کر رکھتی ہیں اگر ہمارے خاندان کی بعض عورتیں گوٹہ کناری استعمال کرتی ہیں تو یہ وہی ہے جو اُن کی شادیوں پر اُنہیں ملا اور جسے اُنہوں نے سنبھال کر رکھا۔تحریک جدید کے مطالبہ سادہ زندگی کے بعد انہوں نے وہ نہیں خریدا۔اور اپنی چیزوں کو سنبھال کر رکھنا قابلِ تعریف ہے نہ کہ قابلِ اعتراض۔دراصل مساوات کا مطلب یہ نہیں کہ تمام دنیا ایک سطح پر آ جائے۔کیونکہ ایسا ہونا ناممکن ہے۔مساوات کا مطلب یہ ہے کہ نسبتی طور پر ہر شخص قربانی کرے اور سادہ زندگی بسر کرے۔اسکا یہ مطلب نہیں ہوتا کہ کوئی شخص با وجود اشد ضرورت کے نوکر نہ رکھے یا سواری استعمال نہ کرے۔عقل اور سلیقہ قابل تعریف چیز ہے اور پھوہڑ پن قابلِ مذمت۔اسراف قابل اعتراض ہے اور عقل اور سمجھ سے کام لیکر چیزوں کو استعمال کرنا قابلِ تعریف ہے۔سادہ زندگی ایک نسبتی امر ہے۔سب کو ایک ہی سطح پر رکھنا ناممکن ہے۔یہ جو کہا گیا ہے کہ لجنہ کی کلرک کیوں ہے اس کے متعلق یادر ہے کہ لجنہ کی ایک کلرک نہیں بلکہ دوکلرک ہیں۔لیکن مجھے دو پر بھی اعتراض ہے۔میں قریبا سال بھر سے اپنی بیوی سے جھگڑا کر رہا ہوں کہ دو کلرک کافی نہیں ایک