تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 473 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 473

473 رپورٹ لجنہ نائیجیر یا ۱۹۵۷ء :۔محترمہ سکینہ سیفی صاحبہ نے تحریر فرمایا کہ ہر جمعہ کی نماز کے بعد اجلاس منعقد کیا جاتا رہا۔جس میں قرآن کریم کے علاوہ اسلام کے مختلف مسائل پر روشنی ڈالی جاتی رہی۔اسلامی اصول کی فلاسفی ، اربعین، ریویو آف ریلیجنز میں سے حضرت اقدس کے ملفوظات اور مختلف دعا ئیں سکھائی جاتی رہیں۔چندوں کی اور بالخصوص تحریک جدید اور مسجد ہالینڈ کے چندوں کی وصولی کا خاص انتظام کیا گیا۔ہر ماہ چار عورتیں پمفلٹ لے کر قریبی علاقوں میں جا کر تبلیغ کرتیں اور اس عرصہ میں انہوں نے قریباً ۳۰ روپے کے پمفلٹ فروخت کئے۔عورتیں لیگوس کے دُور کے علاقوں میں دوروں پر بھی گئیں۔تقریباً ہر ماہ مذہبی معلومات پر مشتمل ایک سرکر لیٹر بھجوایا جا تار ہا۔گذشتہ جلسہ سالانہ پر جو خاکسار نے تقریر کی تھی ایک سرکلر میں وہ بھیجی گئی ، اور ایک میں مرکز اور مشنوں کی خبریں، چندوں کی تحریک اور مذہبی سوال وجواب شامل کئے گئے۔اخبار ٹرتھ خریدنے کی تلقین کی گئی۔اگست میں مرکز میں نمائش کی اشیاء ارسال کی گئیں۔دسمبر میں جلسہ کی تیاری زور وشور سے شروع ہوئی۔سرکلر کے ذریعے دوسرے مشنوں کو شامل ہونے کی دعوت دی۔ڈیوٹیاں لگادی گئیں۔ایک پمفلٹ جس میں حضور کی تقریر کا ترجمہ تھا چھپوایا گیا۔۲۵ / دسمبر ۱۹۵۷ء کو لجنہ کا تیسرا سالانہ جلسہ شروع ہوا۔نو مقامات کی مستورات آئی ہوئی تھیں۔قرآن کریم کی تلاوت کے بعد سٹر عائشہ اجید دے ، خاکسار، بیگم شیخ نصیرالدین احمد صاحب اور عزیزی بشری سیفی نے تقاریر کیں۔مذہبی معلومات کا امتحان لیا گیا اور انعامات تقسیم کئے گئے۔دو عورتیں احمدی ہوئیں۔لیگوس کی مستورات نے بڑے خلوص کے ساتھ مہمان داری میں حصہ لیا۔عورتوں نے کھانا پکوا کر بھجوایا۔ایک غیر احمدی خاتون نے بھی ساتھ کام کیا۔لجنہ اماءاللہ سیرالیون کا سالانہ اجلاس:۔لجنہ اماءاللہ سیرالیون کے زیر اہتمام احمدی مستورات کا سالانہ جلسہ منعقد ہوا۔جس میں باہر سے آمدہ اور بو میں مقیم تمام بہنوں کے علاوہ بعض غیر احمدی عورتوں نے بھی حصہ لیا۔جلسہ اہلیہ صاحبہ