تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 441
441 ان کو تکلیف پہنچی ہے اور بعض ان میں سے شکوہ بھی کرنے لگیں لیکن اصل بات یہ ہے کہ انکو شکوہ کا حق نہیں تھا۔شکوہ کا حق ہمارا تھا۔ہمارا حق یہ تھا کہ ہم خدا سے کہتے کہ الہبی ہم اپنا فرض ادا نہیں کر سکے تو ہم کو معاف کر۔ان کو شکایت کا حق نہیں تھا۔ان کو تو خوش ہونا چاہیئے تھا کہ اللہ میاں تیرے کتنے احسان ہیں۔پھر تو ہمیں اتنالایا کہ جماعت کا مرکز ہمارے ٹھہرانے کا انتظام نہیں کرسکا۔یہ تو جماعت کی ترقی کی علامت ہے۔ان کو اس پر خوش ہونا چاہیئے تھا۔ہمیں رونا چاہیئے تھا کہ ہم خدا تعالیٰ کے فضلوں کا اندازہ نہیں لگا سکے۔اور ہم نے جو اندازہ لگایا تھا وہ غلط ہو گیا۔ان کو ہنسنا چاہیئے تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ ہمیں اتنی تعداد میں لایا ہے کہ یہ مرکز والے باوجود ساری کوششوں کے ہمارا انتظام کرنے سے محروم رہ گئے۔اور ہمارے افسروں کو چاہیئے تھا کہ وہ روتے کہ باوجود خدا تعالیٰ کے فضلوں کے بار بار دیکھنے کے پھر بھی ہم اس کا اندازہ لگانے سے قاصر رہے اور پھر بھی خدا کے مہمانوں کو ہم آرام نہیں پہنچا سکے۔میں سات آٹھ دن سے برابر کہ رہا تھا کہ دیکھو خدا تعالیٰ کی غیرت اس وقت بھڑ کی ہوئی ہے۔باغیوں کی بغاوت کی وجہ سے خدا تعالیٰ عرش پر غصہ سے بھرا ہوا بیٹھا ہے اور وہ ضرور ان کو نمونہ دکھائے گا اور نشان دکھائے گا۔اس لئے تیار ہو جاؤ کہ خدا تعالیٰ اب برکت کے دروازے کھولنے والا ہے اور ہزاروں ہزار آدمی پچھلے سال سے زائد آئے گا۔چنانچہ اس وقت تک بھی قریباً نو ہزار آدمی زیادہ آچکا ہے۔اب اگلے دنوں میں اور بھی امید ہے۔ابھی تو ستائیس کی تاریخ کو لوگ زیادہ آیا کرتے ہیں۔پس ستائیس بھی ہے، اٹھائیس بھی ہے جبکہ اس سے بھی زیادہ لوگ آئیں گے اور ہر دفعہ دشمن روسیہ ہوگا۔اور ہر دشمن شرمندہ ہوگا کہ جس جماعت کو ہم مارنا چاہتے تھے وہ پھر زندہ ہو کرنکل رہی ہے۔پس ایک طرف تو میں منتظمین کو نصیحت کرتا ہوں کہ وہ پورے زور سے خدا تعالیٰ کے فضلوں کو اندازہ کر کے ایسا انتظام کریں کہ آئندہ مہمانوں کو تکلیف نہ ہو۔اور مہمانوں کو نصیحت کرتا ہوں کہ اگر ایک دن تکلیف بھی ہو تو وہ اس بات پر خوش ہوا کریں کہ دیکھو ہمارا خدا کتنا شاندار ہے کہ دشمن کی مخالفت کے باوجود ہم کو بڑھا رہا ہے۔پس اگر تکلیف ہو تو تمہیں حمد کرنی چاہیئے اور خدا تعالیٰ کے ذکر میں بڑھنا چاہیئے اور جو منتظم ہیں ان کو شرمندہ ہونا چاہیئے اور ان کو خدا تعالیٰ سے عاجزانہ معافی مانگی چاہیئے کیونکہ ان کا قصور ہے اور تمہارے لئے برکتوں اور رحمتوں کی علامت ہے۔مجھے یاد ہے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کل سات سو آدمی آئے تھے۔اب ایک