تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 32
32 پاکستان میں داخل ہو رہے تھے اس امر کی ضرورت شدت سے محسوس ہورہی تھی کہ پاکستان میں رہنے والے ان کی ہر ممکن مدداور دلجوئی کریں۔اس ضرورت کے احساس کے تحت قریبا تمام لجنات نے اپنے اپنے مقام پر انفرادی اور اجتماعی طور پر مہاجرین کی مدد کرنے کا بیڑا اٹھایا اور ان کے کھانے پینے پہننے اور رہائش کے انتظامات میں حصہ لیا۔چند لجنات کی رپورٹوں کا خلاصہ درج ذیل کیا جاتا ہے:۔لاہور : لا ہور میں فسادات کی وجہ سے لجنہ کے اجلاس بند تھے۔چنانچہ جب قادیان اور دیگر مقامات سے مہاجرین پہنچے تو جنرل سیکرٹری صاحبہ لاہور محترمہ زینب حسن صاحبہ اور جنرل صدر محترمہ امتہ اللہ مغل صاحبہ نے بڑی کوشش سے مہاجرین کے لئے سامان اکٹھا کیا۔سینکڑوں کی تعداد میں برتن، کپڑے، بستر اور نقدی اکٹھی کر کے دفتر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ میں تقسیم کرنے کے لئے دیئے۔راولپنڈی: جب مشرقی بنجاب کے مہاجرین کا پہلا قافلہ پہنچا اور اسے اسلامیہ ہائی سکول کی عمارت میں ٹھہرایا گیا تو بجنہ کی سرگرم ممبر محترمہ امتہ العزیز صاحبہ مرحومہ اہلیہ راجہ عبدالرؤف صاحب مرحوم لجنات کی دیگر ممبرات کو لیکر وہاں پہنچیں اور امدادی کام کو وسیع پیمانے پر شروع کیا۔مسلم لیگ سے بھی رابطہ قائم کیا۔حتی کہ آپ کو مقامی مسلم لیگ ( شعبہ خواتین) کی مجلس عاملہ کا ممبر بنالیا گیا۔مرحومہ نے لجنہ اماءاللہ اور مسلم لیگ کے تعاون سے اتنا عمدہ اور مؤثر کام کیا کہ راولپنڈی کے کمشنر، ڈپٹی کمشنر اور صدر مسلم لیگ نے اس کام کو از حد سراہا۔جب عارضی الاٹ منٹ کے دفاتر کھولے گئے تو حکومت نے آبادکاری کے کام کے لئے چار افراد پر مشتمل ایک بورڈ قائم کیا جس میں دو مقامی مجسٹریٹ تھے اور دوعورتیں۔ان چاروں کو الاٹ منٹ کمشنر کا عہدہ دیا گیا امتہ العزیز صاحبہ مرحومہ بھی ان میں سے ایک تھیں چنانچہ ان کو بھی الاٹ منٹ کمشنر بنا دیا اور مہاجرین کومختلف مقامات پر آباد کرنے کا اختیار دے دیا گیا۔آپ نے اس کام کو شب و روز کی محنت سے سرانجام دیا اور مسلم لیگ کے حلقوں میں ہمیشہ اپنے آپ کو لجنہ اما اللہ کے نمائندہ کے طور پر پیش کیا۔صبح سویرے آپ ممبرات کو ساتھ لے کر گھر سے نکلتیں اور رات گئے تک مہاجرین کی مدد کرنے میں مصروف رہتی تھیں۔مقامی زنانہ مسلم لیگ کو جتنی بھی دیانت دار کا رکن