تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 332
332 اہم پیغام میں فرمائے تھے کہ " آپ بھی دعا کرتے رہیں میں بھی دعا کرتا ہوں۔انشاء اللہ فتح ہماری ہے۔کیا آپ نے گذشتہ چالیس سال میں کبھی دیکھا ہے کہ خدا تعالیٰ نے مجھے چھوڑ دیا؟ تو کیا اب وہ مجھے چھوڑ دے گا! ساری دنیا مجھے چھوڑ دے مگر وہ انشاء اللہ مجھے کبھی نہیں چھوڑے گا۔سمجھ لو کہ وہ میری مدد کے لئے دوڑا آ رہا ہے۔وہ میرے پاس ہے۔وہ مجھ میں ہے۔خطرات ہیں اور بہت ہیں مگر اس کی مدد سے سب دور ہو جائیں گے۔تم اپنے نفسوں کو سنبھالو اور نیکی اختیار کرو۔سلسلہ کے کام خدا خود سنبھالے گا۔ان فسادات میں احمدی مستورات نے بھی مختلف علاقوں اور مقامات پر بہادری ، جانثاری اور تو کل علی اللہ کا اعلیٰ نمونہ دکھایا اوروہ ہر قسم کے جانی اور مالی نقصانان کے خطرات کے باوجود ایمان اور یقین کے اعلیٰ مقام پر فائز ہیں۔اگر کہیں کسی قسم کا نقصان بھی اٹھانا پڑا تو اس پر انہوں نے مومنانہ صبر کا اعلیٰ نمونہ دکھایا۔عہدیداران لجنہ اماءاللہ مرکز یه ۱۹۵۳ء صدر حضرت سیدہ ام ناصر صاحبہ جنرل سیکرٹری حضرت سیدہ مریم صدیقہ صاحبہ مد ظلہ العالیٰ سیکرٹری مال محترمه استانی میمونه صوفیه صاحبه سیکرٹری تبلیغ محترمه امۃ الرشید شوکت صاحبه سیکرٹری تعلیم محترمہ بیگم صاحبہ مرز امنوراحمد صاحب سیکڑی خدمت خلق محترمہ بیگم صاحبہ مرزا مبارک احمد صاحب سیکرٹری نمائش محترمه استانی امۃ العزیز عائشه صاحبه سیکرٹری بیرون محتر مدامتہ الرحیم عطیہ صاحبہ اہلیہ صوفی مطیع الرحمان صاحب بنگالی مرحوم لجنہ اماءاللہ ربوہ کی تشکیل: اس سال کا پہلا اہم واقعہ لجنہ اماءاللہ ربوہ کی تشکیل ہے۔اس وقت تک لجنہ مرکز یہ ہی ربوہ کی ا ہفت روزہ فاروق ۴ / مارچ ۱۹۵۳ء ص ۱