تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 331
331 چوتھا باب ۱۹۵۳ء تا ۱۹۵۵ء ۱۹۵۳ء جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت کا شدید طوفان حضرت سیّدہ اُتم داؤد نا ئب صدر لجنہ اماءاللہ مرکزیہ کی وفات کا سانحہ یہ سال اپنی اس خصوصیت کی وجہ سے اہمیت رکھتا ہے کہ امسال ملک میں جماعت احمدیہ کے خلاف مخالفت اور فسادات کی آگ اس شدت سے بھڑ کی کہ بالآخر حکومت کو مارشل لاء نافذ کرنا پڑا۔یوں تو روز اول ہی سے الہی سلسلہ مخالفت کی آگ میں پروان چڑھتے ہیں چنانچہ جماعت احمدیہ کو بھی اپنے یوم تاسیس سے ہی مخالفت کے مختلف طوفانوں کا سامنا کرنا پڑا۔اور یہ طوفان مختلف حیثیتوں کے ساتھ کم و بیش جاری رہے لیکن ۱۹۵۳ء میں جس وسعت اور شدت سے ساتھ یہ آگ بھڑ کی اس کی مثال سلسلہ کی تاریخ میں نہیں ملتی۔اس وقت پنجاب میں جو حکومت برسراقتد ادتھی اُس کی پشت پناہی کی وجہ سے اس کی شدت میں اور بھی اضافہ ہوا۔لیکن الہی وعدوں کے مطابق اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام اور حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیشگوئیوں کے مطابق دشمن اپنے ناپاک اور خوفناک منصوبوں میں ناکام رہا۔وہ اپنی جلائی ہوئی آگ کی لپیٹ میں خود ہی آ گیا اور الہی جماعت کا قافلہ اپنی منزل کی طرف رواں دواں رہا۔اور اس طرح حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کے یہ الفاظ حیرت انگیز طور پر پورے ہوئے جو حضور نے عین مخالفت کی شدت کے ایام میں جماعت کے نام ایک