تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 158 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 158

158 لئے اسے گروی سمجھو۔اس کے ساتھ وہاں کے مبلغ کی طرف سے اصرار ہورہا ہے کہ پچھلا قرضہ ادا کرو اور آگے کے لئے مسجد کی تیاری کرو۔پس ممکن ہے یہ مکان گرد ہی رکھنا پڑے۔لیکن مسجد ہالینڈ کی طرف سے میں سمجھتا ہوں کہ عورتوں کی توجہ دلانے کی اتنی ضرورت نہیں مجھے یقین ہے کہ وہ میری اس مختصر تحریک سے ہی اپنے فرض کو سمجھنے لگ جائیں گی اور اس نیک کام کو تکمیل تک پہنچادیں گی۔میں عورتوں سے کہتا ہوں تمہاری قربانی مردوں سے اس وقت بڑھی ہوئی ہے اپنی اس شان کو قائم رکھتے ہوئے اپنے دفتر کے قرضہ کو بھی ادا کرو اور اس کے ساتھ مسجد ہالینڈ کو بھی نہ بھولنا۔اس کے لئے ابھی کوئی پچاس ہزار روپیہ کے قریب ضرورت ہے۔ہمارا پہلا اندازہ مکان اور مسجد کی تعمیر کا تیں ہزار کے قریب تھا لیکن اب وہ کہتے ہیں کہ ساٹھ ہزار سے کم میں وہ جگہ نہیں بن سکتی کیونکہ اس جگہ پر گورنمنٹ کی طرف سے کچھ قیود ہیں اور وہ ایک خاص قسم کی اور خاص شان کی عمارت بنانے کی وہاں اجازت دیتے ہیں اس سے کم نہیں دیتے۔پس زمین کی قیمت مل کر نوے ہزار سے ایک لاکھ تک کا خرچ ہوگا جس میں سے وہ بفضلہ چھیالیس ہزار تک اس وقت تک ادا کر چکی ہیں۔اس زمانہ میں مسجد ہالینڈ کی وصولی کی فہرستیں بہت ہی شاذ شائع ہوئی ہیں۔جماعت کی مالی حالت بھی کمزور تھی۔عورتوں پر مسجد کے علاوہ اپنے دفتر کی تعمیر کی بھی ذمہ داری تھی اس لئے چندہ کی وصولی خاطر خواہ نہ تھی۔صرف لجنہ اماءاللہ کی ایک رپورٹ جو الفضل (۱۸۔جولائی صف۷ ) پر شائع ہوئی سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وقت تک لجنہ لا ہور - /۱۶۸۰ روپے مسجد ہالینڈ کے لئے ادا کر چکی تھی۔جلسه سالانہ ۱۹۵۲ء کے موقعہ پر ۲۷۔دسمبر کو حضرت مصلح موعودؓ نے مردانہ جلسہ گاہ سے ہی مستورات کو خطاب فرمایا ( بعض حالات کی وجہ سے مناسب نہ سمجھا گیا کہ حضور زنانہ جلسہ گاہ میں تشریف لاکر خطاب فرمائیں) اور مسجد ہالینڈ کے چندہ کی وصولی کی طرف لجنہ اماءاللہ کو توجہ دلائی۔آپ نے فرمایا:۔عام تقریر شروع کرنے سے قبل میں مستورات کو توجہ دلاتا ہوں کہ تمہارے ذمہ مسجد ہالینڈ کی تعمیر کا چندہ ہے۔اسی طرح لجنہ کے دفاتر کی تعمیر کے سلسلہ میں بھی قرضہ ابھی باقی ہے تمہیں اس بوجھ کو اُتارنے کی کوشش کرنی چاہیئے۔تمہارے اندر قربانی کا جذبہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے کیونکہ تمہیں خدا نے قربانی کی ہی جنس بنایا ہے۔ماں، بہن اور بیٹی کی حیثیت میں محنت اور قربانی کے جو نظارے ل الازها رلذوات الخمار حصہ دوم صفحه ۱۳۳