تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 145 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 145

145 شادی کا یہ مبارک سلسلہ چلتا چلا آیا ہے اور خدا نے چاہا تو آئندہ بھی اور ابد الآباد تک جاری رہے گا۔آج سے چودہ سو سال قبل مکہ مکرمہ کی وادی غیر ذی زرع میں جب ایک شخص عبد اللہ نامی نے ایک عورت آمنہ سے شادی کی تو کون کہ سکتا تھا کہ اس شادی کے نتیجہ میں ایک ایسا موتی نکلے گا جو دنیا کی کایا پلٹ دے گا۔اور اس تعلق کے نتیجہ میں ایک ایسا جو ہر دستیاب ہوگا جو کہ پیدائش انسانی کا واحد مقصود تھا۔خدا کرے آج مکہ مکرمہ کی مانند اس وادی غیر ذی زرع میں ہونے والی یہ شادی بھی ویسی ہی برکات کی حامل ہو اور اس مبارک تعلق سے ویسے ہی نیک نتائج پھر ایک دفعہ اہلِ دُنیا کے لئے ظاہر ہوں۔آمین۔ہماری محترم بہن! ہمیں اس بات پر فخر ہے کہ آپ شروع سے لجنہ اماءاللہ کی سرگرم کارکن رہی ہیں اور اس سلسلہ میں خدا تعالیٰ نے آپ کو جس قدر خدمات بجالانے کی سعادت عطا فرمائی ہے وہ واقعی قابل صدر شک ہے۔سچ ہے۔۔۔اس سعادت بزور بازو نیست تانه بخشد خدائے بخشنده آپ کی مساعی اور تعاون ہمیشہ ہمارے لئے مفید اور کارآمد نتائج پیدا کرتی رہی ہیں۔جماعت کی مستورات کی تنظیم اور تعلیم و تربیت میں ہماری راہ میں جو بھی مشکل آئی اس میں آپ کے مشورہ اور راہ نمائی نے بہت ہی فائدہ دیا۔ہم آپ کی ان شبانہ روز خدمات کو کبھی بھی بھلا نہیں سکتے اور دلی خلوص کے ساتھ یہی دعا کرتے ہیں۔جَزَاكُمُ اللَّهُ اَحْسَنُ الْجَزَاءِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ - ہماری دلی خواہش ہے کہ جس طرح شادی سے پہلے آپ لڑکیوں کے لئے قابل تقلید نمونہ پیش کرتی رہی ہیں اسی طرح شادی کے بعد سہاگنوں کے لئے بھی اُسوہ حسنہ ثابت ہوں۔اس وقت زندگی کے جس نے عملی میدان میں آپ قدم رکھ رہی ہیں اس میں ہماری دلی دعا ئیں اور خدائی فرشتے آپ کے مددگار ہوں۔اس مبارک تقریب پر ہم حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی زبان مبارک سے نکلے ہوئے الفاظ میں در ددل کے ساتھ یہ دعا کرتے ہیں کہ ے با برگ و بار ہوویں، اک سے ہزار ہوویں روز کر مبارک ، سبحان من میرانی