تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 135
135 عورتوں میں وقف زندگی کی تحریک : ۱۴۔نومبر ۱۹۴۹ء کو خطبہ جمعہ میں حضور نے فرمایا کہ عورتیں بھی اپنی زندگیاں خدمت دین کے لئے وقف کریں اور تبلیغ میں حصہ لیں کیونکہ مردوں کی نسبت عورتیں احمدیت کی تبلیغ میں زیادہ روک بن رہی ہیں۔حضور نے فرمایا:۔اگر عورت تبلیغ کرے گی تو دلائل پر بات آجائے گی اور ہمیں یقین ہے کہ اسلام دلائل میں غالب رہتا ہے مرد تبلیغ کرے گا تو جذباتی باتیں تبلیغ میں روک بن جائیں گی دلائل پر بات نہیں آئے گی۔۔۔عورت مرد کے مقابلہ میں دلیل کو سوچتی نہیں اس لئے ہماری ہر دلیل بے کار جائے گی۔لیکن یہی باتیں جب ایک عورت کے منہ سے نکلیں گی تو بات جذباتی رنگ میں ہی نہیں رہے گی بلکہ خالص عقلی رنگ اختیار کر جائیگی اور خالص عقلی رنگ میں یقیناً ہمارا پہلو غالب رہے گا۔دوسرے عورتیں عورتوں میں تبلیغ کر کے انہیں اسلام کی طرف لے آئیں گی تو اس کا لازمی نتیجہ یہ ہو گا کہ مرد گھروں میں بجائے مخالفت کے احمدیت کی تعریف سنیں گے اور اس طرح وہ احمدیت کے زیادہ قریب آجائیں گے۔“ پھر حضور نے فرمایا کہ: جو عورتیں اس تحریک میں شامل ہوں وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں۔جب وہ واقف زندگی مردوں سے شادی کریں گی تو عورت کو مقدم رکھتے ہوئے ہم اس کے خاوند کو بھی اُسی علاقہ میں لگادیں گے جہاں عورت کے کام کی زیادہ اہمیت ہوگی۔يوم التبليغ : حضرت خلیقہ اسیح الثانی نے جماعت کو ہر سال یوم التملی منانے کی ہدایت فرمائی تھی۔جہاں مرداس میں حصہ لیتے تھے وہاں عورتیں بھی لجنہ کے زیر انتظام یہ دن اہتمام کے ساتھ تبلیغ میں گزار تھیں۔وفود کی صورت میں غیر از جماعت مستورات کے گھروں میں جاتیں زبانی تبلیغ کے علاوہ ل الازهار لذوات الخمار حصہ دوم صفحه ۴۰ و الفضل ۱۸ اکتوبر ۱۹۴۹ صفحه ۲