تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم

by Other Authors

Page 117 of 567

تاریخ لجنہ اماءاللہ جلد دوم — Page 117

117 مکرمه استانی میمونہ صوفیہ صاحبہ مکرمہ منظور فاطمہ صاحبہ دختر چوہدری غلام محمد صاحب۔مکرمہ حمیدہ صابرہ صاحبہ دختر ڈاکٹر فیض علی صاحب صابر مکرمہ استانی حور بانو صاحبہ پانی پتی۔مکرمہ رقیہ صاحبہ بنت ولی محمد صاحب مکرمہ استانی محمدی بیگم صاحبہ مکرمہ امتہ الرشید صاحبہ بنت چوہدری وزیر محمد صاحب مکرمہ سیدہ صاحبہ بنت میر مہدی حسن صاحب۔مکرمہ استانی سلیمہ صاحبہ بنت جیون صاحب۔اس کے بعد یہ سکول (جس کی بنیاد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں رکھی گئی تھی) آہستہ آہستہ ترقی کی منازل طے کرتا چلا گیا۔ہجرت کے وقت قادیان میں طالبات کی تعداد اتنی زیادہ ہو چکی تھی کہ ایک اور مدرسہ طالبات کے لئے مڈل تک جاری کیا گیا۔ہجرت کے بعد ابتداء میں کوشش کی گئی کہ لاہور میں کوئی عمارت الاٹ کروا کے نصرت گرلز ہائی سکول جاری کر دیا جائے۔جو لوگ رتن باغ اور اس کے گردو نواح میں مقیم تھے ان کی بچیوں کی تعلیم رتن باغ کے ہی ایک کمرہ میں جاری رکھنے کی کوشش کی گئی۔نصرت گرلز سکول کی اکثر استانیاں جہاں جہاں ان کے گھر والے جا کر آباد ہوئے وہاں چلی گئیں۔بہت سی بچیوں نے خاطر خواہ تعلیم نہ ہونے کی وجہ سے لاہور کے دوسرے سکولوں میں داخلہ لے لیا۔آخر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ربوہ کی سرزمین خریدی گئی اور اپریل ۱۹۴۹ء کے جلسہ سالانہ کے موقع پر مہمانوں کے لئے جو کچھ بیر کیں تیار کی گئیں تھیں انہیں کمروں میں تقسیم کر کے چاردیواری بنا کر ایک سکول کی شکل دے دی گئی اور نصرت گرلز سکول کا با قاعدہ اجراء کر دیا گیا۔جوں جوں ربوہ میں آبادی بڑھتی گئی طالبات کی تعداد میں بھی اضافہ ہوتا گیا۔حتی کہ سکول کی اپنی شاندار عمارت تیار ہوگئی اور ۱۹۵۵ء میں سکول اپنی مستقل عمارت میں منتقل ہوا۔ان دنوں نصرت گرلز ہائی سکول کی ہیڈ مسٹریس امتہ الرحمن صاحبہ عمر تھیں جو ۱۹۵۶ء میں منافقین کے فتنہ میں ملوث ہونے کی وجہ سے یہاں سے چلی گئیں۔ان کے بعد محترمہ امتہ العزیز عائشہ صاحبہ نے چارج لیا۔کئی سال تک بے لوث خدمت کرنے کے بعد آپ کیکم ستمبر ۱۹۶۳ء کو ریٹائر ہوئیں۔آپ کے بعد محترمہ مسعودہ بشیر صاحبہ ایم۔اے ہیڈ مسٹریس مقرر ہوئیں۔آپ کے زمانہ میں اس مدرسہ نے نمایاں ترقی کی ہے۔۱۹۵۱ء میں پہلی بار میٹرک کے امتحان میں ہجرت کے بعد ۸ طالبات کامیاب ہوئیں لے اور اس له الفضل ۲۶ مئی ۱۹۵۱ء صفحه ۳